چترال (نمائندہ چترال میل)ضلع ناظم چترال حاجی مغفرت شاہ نے کہا ہے۔کہ اگر چترال میں رہائش پذیر تمام فرقے کے لوگ اپنی صدیوں پرانی بھائی چارے کے ماحول کو برقرار نہیں رکھیں گے۔ تو جوحالات آیندہ اس خطے میں آنے والے ہیں۔ اُس میں خس وخشاک کی طرح بہہ جائیں۔ اور گمنامی کی چادر اُنہیں ڈھانپ لے گی، ہمارا روشن مستقبل اُسی میں ہے۔ کہ ہم ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کریں اور ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔کیونکہ لواری ٹنل کے مستقل بنیادوں پر کھلنے ،سی پیک روٹ کی تعمیر اور وسطی ایشائی ممالک کے ساتھ لنک ہونے کے بعد باہر سے بھاری سرمایوں کے ساتھ لوگ چترال کا رُخ کریں گے۔ جن کا ہم باہمی اتحاد و اتفاق کے بغیر مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ان خیا لات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز گرم چشمہ کے مقام پرابیگ میں لوگوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس میں ممبر ڈسٹرکٹ کونسل محمد حسین،ویلج ناظم سلطان خان چارویلو اور علاقے کے عمائدین اور لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ضلع ناظم نے کہا۔ کہ مجھے بہت افسوس ہے۔ کہ گذشتہ بیس تیس سالوں کے دوران لوگوں کے غلط فیصلوں کی بنا پر ایسے لوگ چترال پر مسلط ہوئے۔ جن کا کام عوامی مفاد سے زیادہ اپنی تجورئیاں بھرنے اور کرپشن کو فرو غ دینے پر صرف ہوئے، نتیجتا لوگ آج بھی مسائل کا بُری طرح شکار ہیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ چترال اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں ہم ایک دوسرے کے شانہ بشانہ متحد ہو کر ہی ان بد عنوان لوگوں کو شکست دے سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا،کہ گرم چشمہ کے موجودہ بلدیاتی نمایندگان بے پناہ سیاسی بصیرت اور صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ اور یہ ایک ایک لمحے کیلئے بھی علاقے کے مسائل سے غافل نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے۔کہ انہوں نے اپنی اہلیت کی بنیاد پر گذشتہ چار سالوں کے دوران علاقے کیلئے جو کام کئے۔ شائد کسی نے کیا ہو۔ ضلع ناظم نے کہا۔ کہ یہ بہت افسوس کا مقام ہے۔ کہ جن لوگوں نے اس علاقے سے پرویز مشرف کے نام پر جھولی پھیلا کر ووٹ حاصل کیا۔ بعد میں اُ س کے خلاف استعمال ہوئے۔اس کے باوجود پرویز مشرف ایک قوت کے طور پر چترال کے لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہیں۔ حاجی مغفرت شاہ نے کہا، کہ چترال کے لوگوں کو ریاستی دور سے لے کر آج تک غلام بنایا گیا۔ اور مختلف لوگوں نے اس سادہ لوح عوام کا استحصال کرکے فوائد حاصل کئے۔ ہم اس عمل کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ ہم نے کھبی بھی دھوکا دہی کی سیاست نہیں کی۔ اور مجھے اس بات پر سو فیصد یقین ہے اللہ پاک کی مدد کے بغیر کوئی بھی کام نہیں ہو سکتا۔ اور ایک لیڈر کا کمال اُسی میں ہے۔ کہ وہ دیانتداری کے ساتھ قوم کی نمایندگی کرے۔ ضلع ناظم نے کہا۔ کہ میرے بارے میں اسماعیلی کمیونٹی کے اندر یہ افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ کہ میں اس کمیونتی کے اداروں کا مخالف ہوں۔ انہوں نے کہا۔ کہ یہ بات بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ میں یہ بات صاف کہتا ہوں۔ کہ میں ان اداروں کے اندر ہونے والی بے قاعدگیوں اور عوام کے خلاف استحصالی اقدامات کا بالکل مخالف ہوں۔ کیونکہ یہ ادارے خصوصی طور پر محروم و مجبور لوگوں کو سہارا دینے کیلئے وجود میں لائے گئے ہیں۔ اور ان کا کردار وہی ہونا چاہیے۔ پُر امن ماحول میں تما م اداروں کو کام کرنے کا موقع دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ ضلع ناظم نے علاقے کے لوگوں کی طرف سے پیش کئے گئے چار مطالبات جن میں سپورٹس گراؤنڈ، عید گاہ، دیدار گاہ اور بجلی گھر کی بحالی کے حوالے سے ویلج ناظم سلطان خان کی طرف سے پیش کردہ مطالبات کو عملی جامہ پہنانے کی یقین دہانی کی۔ قبل ازین ممبر ڈسٹرکٹ کونسل محمد حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ کہ میں الیکشن کے دوران ھلقے کے عوام سے جن مسائل کے حل کا وعدہ کیا تھا۔ اللہ رب العزت کی مہربانی سے اور ضلع ناظم کے بھر تعاون سے حل کردیا ہے۔ اور مجھے خوشی ہے۔ کہ اللہ پاک نے مجھے سرخرو کیا۔ انہوں نے کہا۔ اس میں سب سے بڑا کردار آپ لوگوں کا ہے۔ کہ آپ نے اس علاقے سے کرپٹ لوگوں کو بھگانے کیلئے مجھ پر اعتبار کیا۔ اور اللہ پاک نے ہماری مدد کی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی۔ کہ اپنا تعاون اسی طرح الیکشن 2018میں بھی جاری رکھیں۔ انشاللہ پھر اس وادی سے بدعنوان قیادت کا مستقل بنیادوں پر خاتمہ ہو گا۔ انہوں نے کہا، کہ ایم پی اے سلیم خان کرپشن کی جڑ ہیں۔ جس کی جڑیں کاٹے بغیر علاقے کی ترقی ممکن نہیں۔ محمد حسین نے اپنے چار سالہ دور میں کئے گئے تمام منصوبوں کی تعدا اور لا گت گنوائے۔ اور کہا کہ چار کروڑ روپے بحیثیت ممبر ڈسٹرکٹ کونسل انہوں نے یوسی پرابیگ پر خر چ کئے۔ اور عوام نے ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر ان کی گواہی دی۔ اور مستقبل میں بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔ قبل ازین ویلج ناظم سلطان خان نے خطاب کرتے ہوئے ممبر ڈسٹرکٹ کونسل محمد حسین کے علاقے کیلئے کاموں پر روشن ڈالی۔ اور کمیونٹی کی طرف سے اطمینان اور اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے علاقے کے چار بڑے منصوبوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر علاقے کے معروف شخصیت اور سوشل ورکر سلطان مراد اور دولہ خان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ قبل ازین ضلع ناظم جب پرابیگ پہنچے تو مقامی لوگوں نے اُن کا شاندار استقبال کیا۔ اور اُن کو ہار پہنائے، جبکہ مقامی رواج کے مطابق اشپیری پیش کی۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


