”فلسفہ رمضان المبارک“
یہ اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم ہے کہ ہمارے ضعف ایمان اور ناکارہ اعمال کو از سر نو قوی اور کامل بنانے کیلئے رمضان المبارک کے چند گنتی کے دن عطا فرمائے ہیں۔اسلئے ان کو غنیمت سمجھ کر ہمیں بڑے شوق و ذوق کے ساتھ ان ایام معدودہ کی قدر کرنی چاہئے۔یوں تو اللہ تعالیٰ نے ہماری دنیا و آخرت کے سرمایہ کیلئے ہم کو چند فرائض و حقوق واجبہ کا مکلف بنایا ہے مگر اس ماہ مبارک میں چند نوافل و مستحبات کے اضافہ کے ساتھ ہم کو زیادہ سے زیادہ حلاوت ایمانی اور اعمال کی پاکیزگی اور اپنے حصول رضاکا موقع عطا فرمایا ہے۔ ہم اس کی قدر کریں اور اس سے بھر پور فائدہ اٹھائیں اور اس کے شروغ ہونے سے پہلے اپنے ظاہری و باطنی اعضاء کو خوب توبہ و استغفار سے پاک و صاف کرلیں۔اسلئے ہم عہد کرلیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہم اس ماہ مبارک کے تما م لمحات، شب و روز اسی احتیاط و اہتمام میں گزاریں گے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک مقبول اور پسندیدہ ہے۔احتیاط اس بات کی ہے کہ تمام ظاہری و باطنی گناہوں سے بچیں گے اور اہتما م اس بات کا ہے کہ زیادہ سے زیادہ نیک کام کریں گے اور عبادات و طاعات میں مشغول رہیں گے۔یہ ارادہ کرلیجئے کہ کہ اب ایک پاکیزہ و محتاط زندگی گزاریں گے،آنکھوں کا غلط انداز نہ ہونے پائے،سماعت میں فضول باتیں نہ آنے پائے،بے کار باتوں میں مشغول نہ ہوں، اخبار بینی سے زیادہ شغف نہ ہونے پائے،اسکے علاوہ تمام غیر ضروری تعلقات بھی کم کردیں۔
ہم سب لوگ یقینا خوش نصیب ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ اپنی زندگی میں پارہے ہیں جس کو حاصل کرنے کی تمنا آپﷺ رجب سے شروغ فرماتے تھے اور دعا فرماتے تھے کہ ہمیں رمضان نصیب ہوجائے۔چونکہ یہ ہم سب کی خوش قسمتی ہے کہ رمضان کے ایام میں چل رہے ہیں۔ اب تما م جذبات عبدیت کے ساتھ اور قوی ندامت کے ساتھ بارگاہ الہی میں حاضر ہوں اور اس ماہ مبارک کے تمام برکات و انوار و تجلیات الہیہ سے مالا مال ہوں۔ اپنے تمام گناہوں کی چاہے وہ دل کا ہو، آنکھ کا ہو، یا زبان و کان کا اور دن کے اجالے میں کئے ہوں یا رات کی تاریکی میں، اکیلے کی ہوں یا اجماع میں، ادھورے کئے ہوں یا مکمل سب کو ندامت قلب کے ساتھ بارگاہ الہی میں پیش کردیں اور اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرلیں کہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔ غفلت و نادانی کی وجہ سے نفس و شیطان کی شرارت سے جو بھی گناہ کبیرہ و صغیرہ صادر ہو چکے ہیں ان سب کو معاف فرما دیجئے۔
غصہ اور لڑنے جھگڑنے سے پرہیز کیا جائے، لغو اور فضول باتوں سے پرہیز کیا جائے،بد نظری سے بچا جائے،غیبت، جھوٹ اور تہمت سے پرہیز کیا جائے،سیاسی مباحث سے پرہیز کیا جائے،اور سب سے اہم روزہ کی حالت میں وقت گزارنے کیلئے کسی بھی حرام و ناجائز کام میں نہ لگا جائے جیسے فلم دیکھنا، گانا سننا وغیرہ۔ اس سے بہتر ہے کہ اللہ کے کلام کی تلاوت میں وقت گزرے۔اس ماہ مبارک میں ہر عمل کی جزا بڑھ جاتی ہے۔جس طرح نیک اعمال کا بے حد و بے حساب اجر وثواب ہے اسی طرح ہر گناہ کا مواخذہ و عذاب بھی شدید ہے۔اور تجربہ سے بات ثابت ہے کہ جس نیک عمل کی ابتداء اس ماہ مبارک میں اخلاص کے ساتھ کر جاتی ہے اللہ تعالیٰ اس کو پورا سال بلکہ ساری زندگی جاری رکھنے کی توفیق عطا فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ رمضان المبارک کے روزوں کو صحیح طریقے سے رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
قلم ایں جا رسید و سر بشکست…!!
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


