رواں سال شروع کئے گئے518میگاواٹ کے 6پن بجلی کے منصوبوں پر کام شروغ ہو گا چترال سے ،ارکاری گول ہائیڈروپاورپراجیکٹ99میگاواٹ منصوبے میں شامل

Print Friendly, PDF & Email

پشاور (نما یندہ چترال میل)خیبرپختونخواحکومت توانائی کے شعبے کی ترقی کے لئے حکومتی سطح پر نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے انقلابی اقدامات اٹھارہی ہے۔سستی بجلی کی پیداوارکے لئے صوبے میں پن بجلی کے پائے جانے والے قدرتی وسائل کو بروئے کارلایاجارہاہے۔اس اہم شعبے میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لئے توانائی پالیسی 2016ء میں کئی مراعات رکھی گئی ہیں۔عنقریب صوبے میں نجی شعبے کی شراکت سے 518میگاواٹ کے 6 پن بجلی کے منصوبے شروع کئے جائیں گے جن سے صوبے میں ڈیڑھ ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کو روزگارکے نئے مواقع میسرآئیں گے۔اس سلسلے میں محکمہ توانائی وبرقیات کے ذیلی ادارے پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن(پیڈو) کے زیر اہتمام رواں سال مشتہر(Advertised)کئے گئے نجی شعبے کی شراکت سے پن بجلی کے 6منصوبوں کی ٹیکنکل بڈ اووپننگ کے لئے ایوالویشن (Evaluation)کمیٹی کا ایک خصوصی اجلاس چیف ایگزیکٹو پیڈو اکبرایوب خان کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں توانائی کے شعبے سے وابستہ افسران سمیت ان منصوبوں کے لئے دلچسپی رکھنے والی نجی کمپنیوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ نجی شعبے کی شراکت سے رواں سال شروع کئے گئے518میگاواٹ کے 6پن بجلی کے منصوبوں کو جن میں ناران ہائیڈروپاورپراجیکٹ،188میگاواٹ ضلع مانسہرہ،شیگوکس ہائیڈروپاورپراجیکٹ102میگاواٹ ضلع لوئیردیر،ارکاری گول ہائیڈروپاورپراجیکٹ99میگاواٹ ضلع چترال،بٹاکنڈ ی ہائیڈروپاور پراجیکٹ96میگاواٹ ضلع مانسہرہ،غوربندہائیڈروپاورپراجیکٹ21میگاواٹ ضلع شانگلہ اورنندی ہارہائیڈروپاورپراجیکٹ12میگاواٹ ضلع بٹ گرام شامل ہیں حال ہی میں قومی اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے مشتہر کیاگیا، جس کے جواب میں نجی شعبے سے 11پروپوزل موصول ہوئے۔مقررہ مدت کے بعد دلچسپی رکھنے والی نجی کمپنیوں کے نمائندوں کی موجودگی میں نہایت شفاف (Transparent)طریقے سے بڈ اوپننگ کا اہتمام کیا گیا۔جس میں ٹیکنیکل مہارت کی اہلیت جاننے کے لئے نجی کمپنیوں سے موصول ہونے والے لفافوں میں ٹیکنیکل پروپوزل فرداً فرداً کھولے گئے اورنہایت شفاف انداز میں ٹیکنیکل کمیٹی کے حوالے کئے گئے تاکہ ٹیکنیکل اہلیت کی حامل نجی کمپنیوں کو بعدازاں مالی اہلیت کے عمل سے گزارنے کے بعد ان منصوبوں کو عملی طورپر نجی شعبے کے حوالے کیا جائے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ نجی شعبے کے تعاون سے شروع کئے گئے ان 6پن بجلی کے منصوبوں سے صوبے میں ڈیڑھ ارب ڈالرزکی سرمایہ کاری آئے گی۔