بادشاہ منیر بخاری کی پراجیکٹ ڈائریکٹر یونیورسٹی آف چترال تقرری،پشاور ہائی کورٹ میں چلینج

Print Friendly, PDF & Email

پشاور (نما یندہ چترال میل)بادشاہ منیر بخاری کی پراجیکٹ ڈائریکٹر یونیورسٹی آف چترال تقرری کوپشاور ہائی کورٹ میں چلینج کیا گیا ہے بادشاہ منیر بخاری کی پی ڈی تقرری کے خلاف کئی قانونی سوالات اٹھائے گئے ہیں تقرری میں میرٹ پالیسی کو نظر انداز کیا گیا ہے،تعلیم کے اعلی ادارے کے سربراہ کو ایک مقامی ایم پی اے کی سفارش پرتعینات کیا گیا ہے پٹشنر کو میرٹ پر پہلی پوزیشن میں ہونے کے باوجود میرٹ کو پامال کر کے مسترد کیا گیا،آئین پاکستان کی دفعہ 147 کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے جونئیر سینئر پر ترجیح دی گئی ہے اہلیت کا خیال نہیں رکھاگیا سیاسی مصلحتوں کو ترجیح دی گئی،نوٹیفیکیشن آئین اور قانون کے خلاف ہے تعیناتی منسوخ کر دی جائے رٹ پٹیشن چترال یونیورسٹی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر بادشاہ منیر بخاری کی تقرری کے خلاف چترال کے ممتاز قانون دان اور چترال لائر فورم پشاور کے صدر محب اللہ تریچوی ایڈو کیٹ کے ذریعے پروفیسر ڈاکٹر اسماعیل ولی اخگر نے آئین پاکستان کے ارٹیکل 199 کے تحت دائر کر دی ہے ۔پٹیشن میں استدعا کر دی گئی ہے کہ بادشاہ منیربخاری کو ہائیر ایجوکیشن ڈیپارتمنٹ نے سمری وزیر اعلی کو ارسال کرتے ہوئے شامل نہیں کیا تھا۔جو اس عہدے کے لئے مروجہ قانوں کے لئے اہل نہیں تھے جبکہ پروفیسر ڈاکٹر اسماعیل ولی اخگر کا نام نمبر ایک پوزیشن میں رکھا گیا تھا اور وزیر اعلی کو انہیں تین ناموں میں سے ایک کا انتخاب کر نا تھا تاہم قزیر علی ن ان تیونوں کے بجائے چوتھے نام پروفیسر جمیل احمد کے نام پر نوٹیفیکیشن کرنے کا حکم دے دیا تھا جو کہ مروجہ قانون کی خلاف ورزی ہے بعد آذان ایک لوکل ایم پی اے کی سفارش پر وزیر اعلی نے پروفیسر بادشاہ منیر بخاری کو بطور پراجیکٹ ڈائریکٹر ہونیورسٹی آف چترال تعینات کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر داہ ان کا نام نہ تو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی سمری میں تھااور نہ پروفیسر جمیل احمدکے ساتھ شامل تھا۔رٹ پٹیشن میں غیر قانونی تقرری پر بادشاہ منیر بخاری کو عہدے سے ہٹانے او رمیرٹ کے مطابق پٹشنر پروفیسر ڈاکٹر اسماعیل ولی اخگر کو بطور پراجیکٹ ڈائریکر تعینات کرنے کی استدعا کی گئی ہے اور مقدے کی فیصلے تک بادشاہ منیر بخاری کو بطور پروجیکٹ ڈائریکر کام کرنے سے روکنے کی بھی استدعا کی گئی ہے