تربیت اولاد۔۔۔۔ تحریر: اقبال حیا ت آف برغذی

Print Friendly, PDF & Email

تربیت اولاد
بڑی آرزؤں اور تمناؤں کے بعد جب ایک خاندان کو اللہ رب العزت اولاد سے نوازتے ہیں تو اسکی پیدائش پر دھوم دھام کا فطاہرہ کیا جاتا ہے۔ خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ گھر کے تمام افراد کی نظریں اس پر پڑ کر مسرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ گھر کے آنگن میں یہ بچہ انتہائی پیار اور محبت سے پروان چڑھتا ہے۔ والدین پیار کے خوبصورت الفاظ چن چن کر اس پر نچھاور کر تے ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے عہدوں پر اسے فائیز ہونے کی آرزو کر تے ہیں اسے اپنے ارمانوں کی دنیا اور بڑھاپے کے سہارے سے تعبیر کر تے ہیں۔ ان کے دکھ پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔
یوں زندگی کی تمام خوبصورتیوں کے چھاؤں میں پر وردہ یہ بچہ جب گھر کی چار دیواری سے باہر قدم رکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ اور معاشرے کے اندر پائی جانے والی فضا کے اثرات اس کے معطر سانس میں شامل ہونے لگتے ہیں۔ قدم اٹھتے جاتے ہیں اور قرب وجوار کے اوباش اور سر پھیرے لڑکوں کی محفل میں داخل ہوتا ہے۔ اور زندگی کی بر بادی کا آغاز سگریٹ کے کش لینے کی پیشکش کے بعد اسکی طرف اٹھنے والے اس کے خوبصورت ہاتھوں سے ہوتا ہے۔ اور اخلاقیات کی بگاڑ کا یہ نہ ٹوٹنے والا ناطہ چرس اور دیگر نشہ آور آشیاء کے استعمال سے جڑجاتا ہے۔ اور ہم مشربوں کے ساتھ اس نشے کے سرور میں ایسے مست ہونے لگتا ہے۔ کہ شاید وہ سرور حسن بن سبا کی جنت میں بھی نہ ملتا ہو۔ والدین کی امیدوں کی یہ دنیا اجڑتی جاتی ہے۔ اور مداومے کی کوئی صورت ان سے نہیں بن سکتی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بچے کے مستقبل پر پڑنے والے ان برے اثرات کی وجہ ابتدائی تربیت میں کوتا ہی ہے۔ اوریہ زندگی کے صرف ایک پہلو کو دکھانے کا شاخسانہ ہے۔ جس میں پھول اور خوشبو ہی خوشبو ہے۔ اور کانٹوں سے نا آشنا ئی ہے۔ تربیت کا اسلامی تصور یہ ہے۔ کہ اگر بچہ شفقت کا ہاتھ اپنے سر پر دیکھے تو دوسرے ہاتھ میں ڈنڈ ا بھی اسکو نظر آئے۔گھر کے اندر پیار اور ڈانٹ دونوں کا بیلنس ہونا ضروری ہے۔ پیالہ توڑنے پر “اوہو”کا لفظ استعمال کر کے اللہ رب العزت کا حکم نماز کی صورت میں ٹوٹنے پر لب کشائی نہ کرنا والدین کی تربیت کے منفی پہلو کے زمرے میں آتے ہیں۔چونکہ بچپن کی پرورش کے اثرات پوری زندگی میں پھتر پر لکیر کی حیثیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس لئے اس دور کی معمولی غفلت بچے کی پوری زندگی کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ اولاد کی سب سے بڑی نگہبانی یہ ہے کہ اس کا اخلاق اچھا ہو۔ بڑوں کی قدردانی اور آداب کے اوصاف اسکے وجود میں پیدا کئے جائیں۔ بولنا شروع کرے تو گالی اور برے الفاظ سے اسکی زبان اور کانوں کی حفاظت کی جائے۔ دس برس کی ہوجائے تو ہر ایرے غیرے کی صحبت سے محفوظ رکھا جائے۔ بچے کی ضرورت خود پوری کی جانی چاہئے۔ کیونکہ پیسے ہاتھ میں دینے سے مختلف خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ دنیا کی ہر دولت آنی جانی ہے۔ صرف علم کی دولت زندگی بھر ساتھ رہتی ہے۔ اس لئے اولاد کے لئے مکان، جائیداد اور پیسے کا ترکہ چھوڑنے کی بجائے علم و ہنر چھوڑا جانا چاہئے۔ کیونکہ ہنر والا کبھی محتاج نہیں رہتا اور بے ہنر کو اگر خزانہ بھی مل جائے تو مخلص ہی رہتا ہے۔مختصر یہ کہ قرآن پاک میں مسلمانوں کو خود اور اپنی اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچانے کی تاکید ملتی ہے۔ اور سرکار دو عالم ﷺ کے ارشاد کے مطابق ہر نگہبان سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔ اس لئے اولاد کی بے رہروی کے مواخذے میں والدین کا آنا بھی یقینی امر ہے۔
٭٭٭٭