ڈسٹرکٹ گورنمنٹ چترال اور پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے اشتراک سے چترال کی تعمیر وترقی کیلئے چترال گروتھ سٹرٹیجی( yChitral Growth Strateg)کو آخری شکل دینے کیلئے سٹیک ہولڈر کااجلاس گورنر کاٹیج چترال میں ہفتے کے روز منعقد ہوا

Print Friendly, PDF & Email

چترال (محکم الدین) ڈسٹرکٹ گورنمنٹ چترال اور پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے اشتراک سے چترال کی تعمیر وترقی کیلئے چترال گروتھ سٹرٹیجی (y Chitral Growth Strateg)کو آخری شکل دینے کیلئے سٹیک ہولڈر اجلاس گورنر کاٹیج چترال میں ہفتے کے روز منعقد ہوا۔ جس میں ایم پی اے بی بی فوزیہ، ضلع ناظم چترال حاجی مغفرت شاہ، ضلع نائب ناظم مولانا عبدالشکور، ڈپٹی کمشنر چترال شہاب حامد یو سفزئی، ڈی پی او سید علی اکبر شاہ،پی پی اے ایف کے گرانٹ پروگرام کی ہیڈ محترمہ سیمی کمال، ملیحہ اور اُن کی ٹیم، تحصیل کونسل کے چیرمینان مولانا محمد الیاس، مولانا محمد یوسف،ضلع کونسل کے ممبران،مختلف این جی او ز کے ذمہ داران اور وی سی ناظمین نے شرکت کی۔ ضلع ناظم نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا۔ کہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ چترال اور پی پی اے ایف کا یہ اشتراک چترال کی ترقی کیلئے ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔ ہر شعبے کو ترقی دینے کیلئے لائحہ عمل تیار کی جارہی ہے۔ اور انشا اللہ یہ سٹریٹجی چترال کی پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا۔ کہ گذشتہ چھ مہینوں سے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور پی پی اے ایف نے چترال کی ترقی کے حوالے سے تمام پہلووں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور اس سلسلے میں آج کے سٹیک ہولڈر ز کی آرا انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور پی پی اے ایف کی مشترکہ کوششوں سے چترال کے مسائل اگر ختم نہیں کئے جا سکے۔ تو کم ضرور کئے جاسکیں گے۔ انہوں نے کہا۔ میرے دل میں مکمل اخلاص ہے۔ اور میں صرف اور صرف چترال کی تعمیرو ترقی کے وژن کو سامنے رکھ کر یہ کو شش کر رہا ہوں۔ اس سے سیاسی مقا صد لینا میرا ہر گز مقصود نہیں۔ پی پی ایف کی طرف سے سیمی کمال اور ملیحہ نے اپنے خطاب میں کہا۔ کہ ہمیں ترقی کے عمل میں تمام طبقوں کو شامل کرنا ہے۔ جس میں خواتین اور یوتھ خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ صحت تعلیم کے علاوہ ہنر، زراعت، دستکاری، معدنیات، ہائیڈل اور سیاحت ایسے شعبے ہیں جن کو ترقی دے کر علاقے کی معاشی حالت میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ لیکن ان سب میں بہتری لانے کیلئے انفراسٹرکچر پر کام از بس ضروری ہے۔ نیز فنانشل مکینزم کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی۔ ڈپٹی کمشنر شہاب حامد یوسفزئی نے کہا۔ کہ ہم نے پی پی اے ایف کو دعوت دی تھی۔ کہ آپ چترال آکر یہاں کے لوگوں کی مشکلات کا خود جائزہ لیں۔ تاکہ حقیقت کاا ندازہ ہو۔ ہم شکر گزار ہیں۔ کہ آج وہ چترال کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے یہاں آئے ہیں۔ اور ضلعی انتظامیہ اُن کی بھر پور مدد کرے گا۔ ڈی پی او علی اکبر نے کہا۔ کہ چترال پاکستان کا وہ منفرد ضلع ہے۔ جس میں چودہ مختلف زبانیں، مختلف مذاہب کے پیروکار ہونے کے باوجود امن کے داعی ہیں۔ اور جرائم ریٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ لیکن چترال میں امن کے ماحول کو برقرارکھنے اور سیاحوں کو سکیورٹی دینے کیلئے تھانوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہیں۔ تاکہ نوجوانوں کو روزگار ملے، اور سیاحت کی ترقی ہو۔ انہوں نے کہ چترال میں ڈسٹرکٹ ایڈ منسٹریشن، دسٹرکٹ گورنمنٹ اور پولیس ایک پیج پر ہیں۔ اور تینوں کا مقصد یہاں کے پُر امن ماحول کو برقرار رکھنا اور اس کی ترقی ہے۔ ایم پی اے بی بی فوزیہ نے پی پی اے ایف اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی پارٹنر شپ کی تعریف کی۔ اور کہا۔ کہ اس حوالے سے ضلع ناظم کی کو ششیں قابل تعریف ہیں۔ انہوں نے ہر قسم کی تعاون کا یقین دلا یا۔ آارپی ایم اے کے آر ایس پی سردار ایوب نے کہا۔ کہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا قدم گو کہ قابل تعریف ہے۔ لیکن یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے۔ کہ سی پیک منصوبے کے تناظر میں ترجیحات کا تعین کیا جائے۔ اور اسے سیاسی اور علاقائی مفادات سے بالاتر رکھا جائے۔ ڈسٹرکٹ پروگرام منیجر طارق احمد نے کہا۔ کہ لائیولی ہوڈ، ایگریکلچر،فروٹ، دستکاری اور خواتین کی بہتری کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ مسائل بہت زیادہ ہیں،سیلاب اور دیگر ڈیزاسٹر نے چترال کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ چیرمین سی سی ڈی این محمد وزیر خان نے کہا۔ کہ چترال میں دو ہزار سے زیادہ ویلج آرگنائزیشن موجود ہیں، جبکہ بیس لوکل سپورٹ آرگنائزیشنز کا بقاعدہ نیٹ ورک موجود ہے۔ جو علاقے کی تعمیرو ترقی کیلئے سرگرم عمل ہیں انہوں چترال میں کمیونٹیز کو فعال بنانے اور علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے پر اے کے آر ایس پی اور ایس آر ایس پی کی تعریف کی۔ وائس چیر مین چیمبر آف کامرس چترال سرتاج احمد نے کہا۔ کہ چترال کے لوگوں کے پا س انتہائی کم وقت رہ گیا ہے۔ سی پیک کی تعمیر کے بعد بڑی مچھلیاں جب اس علاقے کی طرف رخ کریں گی۔ تو چترال میں زندگی گزار نا مشکل ہو جائے گا۔ اس لئے وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے چترال میں سکلز کی تعلیم دی جائے۔ ہمیں وقت سے پہلے اپنے اداروں کو مضبوط بنانا ہو گا۔ ہوٹل اندسٹری، بزنس انڈسٹری، کاٹیج انڈسٹری اور دیگر صنعتوں کو اپنے پاؤں کھڑا کرنا پڑے گا۔ اس کیلئے آسان اقساط پر قرضوں کی فراہمی، چائنیز زبان سیکھانے کے ساتھ خواتین کی ترقی، ارندو کو ڈرائی پورٹ بنانے اور ماحولیاتی طور پر چترال کے مسائل حل کرنے کیلئے لاوی بجلی گھر سے مفت بجلی کی فراہمی کیلئے کوشش کرنی چاہیے۔ ضلع نائب ناظم نے کہا۔ کہ گو کہ پی پی اے ایف اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا مشترکہ پروگرام قابل تعریف ہے۔ تاہم پی پی اے ایف پورے چترال میں بیک وقت کام شروع کرے ۔ تمام اداروں کو آن بورڈ لیا جائے، دشوار گزار علاقوں کو ترجیح دی جائے اور چترال کی تہذیب و ثقافت کو پیش نظر رکھ کر ترقیاتی کام کئے جائیں۔ تحصیل ناظم مستوج مولانا محمد یوسف نے روڈز کو اہمیت دینے کا مطالبہ کیا اور کہا۔ کہ ترقی سڑکوں سے آتی ہے۔ آج بھی بالائی چترال کے کئی علاقوں کے روڈز بند ہیں۔ تحصیل ناظم چترال مولانا محمد الیاس نے چترال ٹاؤن میں پینے کے پانی کا مسئلہ حل کرنے اور کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ممبر ڈسٹرکٹ کونسل رحمت غازی نے پی پی اے ایف کا شکریہ دا کیا۔ اور کہا۔ کہ متعلقہ لوگوں کو سٹرٹیجی میں شامل کیا جائے۔ اس بارے میں پہلے بھی مشاورت کی جانی چاہیے تھی۔ ممبر ڈسٹرکٹ کونسل شہزادہ خالد پرویز نے کہا۔ کہ چترال میں اے کے آر ایس پی نے کمیونٹی ارگنائزیشنز کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اور یہ اعزاز اُن کو ملنی چاہیے۔ کہ آج ہم اُن ہی کی کوششوں کی بدولت یہاں جمع ہیں۔ اور ایک وسیع ذہن کے ساتھ چترال کی ترقی کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ چترال گروتھ سٹرٹیجی کے حوالے سے ڈسٹرکٹ ناظم کے ساتھ مکمل اتفاق ہے۔ تاہم منصوبے سیاست کی نذر نہیں ہونے چاہیں۔ ہم کوئی ایسا مکینزم بنا ئیں۔ کہ حکومتوں کی تبدیلی سے پراجیکٹس پر اثر نہ پڑے۔ انہوں نے سی ڈی ایل ڈی منصوبوں پر کڑی تنقید کی۔ کہ وہ ضرورت کی بنیاد نہیں کئے گئے۔ ممبر ڈسٹرکٹ کونسل عبد اللطیف نے کہا۔ کہ پورے ڈسٹرکٹ کیلئے ایک ماسٹر پلان بنایا جائے۔ منصوبوں میں ڈوپلیکیٹ نہ ہوں، ٹوررزم کے بارے میں اگہی دی جائے۔ دوہرے کام کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ منیجر فوکس امیر محمد نے موسمیاتی تبدیلی کے چترال پر اثرات پر روشنی ڈالی اور کہا۔ کہ جو بھی منصوبے کئے جائیں۔ اُن کی پہلے رسک اسسمنٹ کی جائے۔ کیونکہ چترال انتہائی طور پر خطرات سے دو چار ہے۔ 2015میں دس دنوں کے اندر پچاس سالوں کے 1100منصوبے آفات کی نذر ہوئے۔ 6000گھر اور 22دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ انہوں نے کہا۔ کہ فوکس نے 371دیہات کی رسک میپنگ کی ہے۔ جس سے فائدہ حاصل کیا جائے۔ مولانا عبد الرحمن نے کہا۔ کہ چترال کے لوگ انتہائی مشکلات سے دوچار ہیں۔ اگر لورای ٹنل کا یہ منصوبہ سابق صدر پرویز مشرف شروع نہ کرتے۔ تو ہم آج بھی محصور ہوتے۔ اس لئے ہمیں اان کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ سیاحتی شعبے سے وابستہ شہزادہ مقصسود الملک نے اپنے خطاب میں کہا۔ کہ چترال کے لوگوں کو اب بھی ٹورزم کی سمجھ نہیں ہے۔ ہم نے ٹورزم کو کلاش فیسٹول، شندور فیسٹول پر محدود کردیا ہے۔ جبکہ اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ ہمیں اپنی تمام ڈویلپمنٹ کو سیاحت کی نظر سے دیکھنا ہوگا۔ اور سیاح کی نظر سے اُسے تعمیر کرنی ہوگی۔ لیکن جب تک اس کیلئے ایک مکمل سوچ کے مطا بق کام نہیں کیا جائے گا ۔ سیاحت کے فوائد حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ ڈسٹرکٹ پلاننگ اینڈ آفیسر نورالامین نے کہا۔ کہ لائن ڈیپارٹمنٹ خدمات انجام دینے والے ادارے ہیں۔ ڈیزاسٹر نے ہمیں پیچھے دھکیلا۔ لیکن دوبارہ ان انفراسٹرکچر کی اشد ضرورت ہے۔ یوتھ ڈویلپمنٹ کے نوید احمد نے کہا۔ کہ چترال میں یو تھ کے ایک ہزرا آرگنائزیشنز، وقت اور ایجوکیشن تینوں موجود ہیں۔ اس لئے اُن کو چترال کی ترقی میں شامل کرکے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔