بعض غیر سرکاری ادارے چترال میں ترقی کے نام پر سیاست کر رہے ہیں۔ اور اپنی مرضی کی قیادت لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ایسے اداروں کو اپنی اصلاح کرنی چاہیے بصورت دیگر ہم اُن کو ضلع سے نکال باہر کرنے پر مجبور ہوں گے۔ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ

Print Friendly, PDF & Email

ہ
چترال (چترال میل رپورٹ) ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ نے کہا ہے۔ کہ بعض غیر سرکاری ادارے چترال میں ترقی کے نام پر سیاست کر رہے ہیں۔ اور اپنی مرضی کی قیادت لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایسے اداروں کو اپنی اصلاح کرنی چاہیے بصورت دیگر ہم اُن کو ضلع سے نکال باہر کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ضلع کونسل چترال کا قانونی نمایندہ ادارہ ہے۔ اس کو بائی پاس کرنے اور اس کے خلاف اقدامات کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوگا۔ اس ضلع کی حفاظت اور اس کے مفادات کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔ لہذا ہمیں ایسے قدم اُٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے۔ جس سے چترال کی فضا ء مکدر ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع کونسل کے چار روزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پیر کے روز کنوئینر ضلع کونسل چترال مولانا عبدالشکور کی زیر صدارت جب چار روزہ اجلاس شروع ہوا۔ توخواتین ممبران کی نمایندگی کرتی ہوئی حصول بیگم نے ایک مرتبہ پھر ضلع کونسل میں احتجاج کیا۔ اور کہا۔ کہ اُن کی طرف سے بار بار احتجاج کے باوجود فنڈ کی تقسیم میں اُن کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا۔ اور خواتین کے ساتھ امتیاز برتا جا رہا ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے جماعت اسلامی اور جمیعت العلماء اسلام جیسے مذہبی جماعتوں کی مخلوط ضلعی حکومت کی طرف جو انصاف کے بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے نہیں تھکتے اُن کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے۔ انہوں نے بائیکاٹ کرتے ہوئے دھمکی دی۔ کہ اُنہیں اگر اُن کا حق نہیں دیا گیا۔ تو وہ بھوک ہڑتال کریں گی۔ اور عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوں گی۔ ضلع ناظم نے اس موقع پر خطاب میں کہا۔ کہ خواتین کو اُن کا جائز فنڈ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مزید فند کا مطالبہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ ضلع ناظم نے کہا۔ کہ چترال کے لوگ وزیر اعظم کی طرف سے اعلان کردہ یونیورسٹی، ہسپتال کی تعمیر کا انتظار کر رہے تھے۔ کہ صوبائی حکومت نے بھی ہسپتال اور یونیورسٹی کا اعلان کرکے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اب ان منصوبوں میں صوبائی حکومت مسلسل روڑے اٹکا ر ہی ہے۔ جس سے چترال کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اگر وزیر اعظم اعلان کردہ یونیورسٹی اور ہسپتال کی تعمیر اور بیس کروڑ فنڈ فراہم نہیں کریں گے۔ تو چترالی عوام کے دل میں وزیر اعظم کے بارے میں تاثر اچھا نہیں ہوگا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا۔ کہ 9مہینے سے 37فیصد بجٹ کو روکے رکھا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے دفاتر کے ٹیلیفون منقطع اور گاڑیوں کے فیول کے پیسے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ صوبائی سطح پر اس اقدام کے خلاف تمام ضلع ناظمین ایک پلیٹ فارم پر آچکے ہیں۔اور صوبائی حکومت کو اپنی یہ نانصافی ختم کرنی پڑے گی۔ ضلع ناظم نے کہا۔ برفباری سے چترال کو بہت نقصان پہنچا۔ اور جانی نقصانات کے ساتھ ساتھ روڈز بری طرح متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا۔ کہ چترال کی ترقی کے حوالے سے پی پی اے ایف نے اسلام آباد میں دونر کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اور انشاء اللہ مارچ کے آخر تک چترال میں دو سے ڈھائی ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز ہو گا۔ اس موقع پر ممبر ڈسٹرکٹ کونسل شیشی کوہ شیر محمد نے روڈ کی صفائی، محمد حسین نے چترال میں وزیر اعظم کی طرف سے اعلان کردہ ہسپتال، یونیورسٹی اور بیس کروڑ روپے فنڈ کی ریلیز کے حوالے سے، رمبور، دوباژ پل کی تعمیر اور سپشل فورس میں بے قاعدگیوں کی انکوائری،مولانا عبد الرحمن نے لواری ٹنل میں مسافروں کی مشکلات کے ازالے کیلئے اقدامات،چترال مستوج روڈ کی مرمت، مولانا محمودالحسن نے پشاور میں غیر قانونی اڈوں کے خاتمے کے بارے میں اجلاس سے خطاب کیا۔