جنگ کسی قوم کو زندہ رکھنے کا آخری آپشن ہے۔۔ورنہ تو اس کا وجود ہی ختم ہونے والا ہوتا ہے۔۔دنیا نے قوموں کے عروج و زوال کا منظر کئی بار دیکھی ہے اور یہ بھی دیکھا ہے کہ ان کی احیاء اسی طرح کی جد وجہد سے ہے۔۔جنگ تباہی ہے۔۔۔ بربادی ہے۔۔جنگ میں جیت کہیں نہیں ہوتی یہ ٹھیک ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قوموں کو یہی جنگ زندہ رکھتی ہے۔۔آج کل جب اسلام میں جہاد کی لاجک پہ بات کی جاتی ہے تو کچھ دانشور سیخ پا ہو جاتے ہیں۔ان کے پاس دلیل ہوتی ہے کہ تمہارے پاس ٹیکنالوجی نہیں ہے۔معیشت مضبوط نہیں ہے۔ہتھیار جدید نہیں ہیں اور آگے امریکہ جنگ مسلط کرے تو ٹھیک ہے اس کے پاس طاقت ہے۔روس اسرائیل جنگ مسلط کریں تو ٹھیک ہے ان کے پاس طاقت ہے۔۔فلسطینی مزاحمت کیوں کر رہے ہیں افعانوں نے 29سال جنگ کیوں لڑی۔پاکستان میں دینی جماعتیں جہاد جہاد کیوں بولتے ہیں اس پر یہ دانشور معترض ہیں۔۔یہ ان کی عجیب منطق ہے۔۔۔
قران عظیم الشان نے دشمن کے مقابلے میں اپنے آپ کو ہر لحاظ سے تیار اور طاقت ور بنانے کی ہدایت کی تاکہ دشمن لرزان و ترسان ہو تم پر حملہ کرنے کی ہمت نہ کرے۔آج کی دنیا کو مہذب دنیا کا نام دیا جاتا ہے مزاحمت اگر کمزور کرے تو اس کو دہشت گرد کا نام دیا جاتا ہے طاقت ور کرے تو امن کے لیے کوشش کہا جاتا ہے۔۔پاکستان دنیا کے منظر نامے میں واحد اسلام ملک ہے جو موجود طاغوتی طاقتوں سے ٹکرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔۔اس لیے یہ کفار کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔۔اس کو معاشی لحاظ سے ناکارہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ہوتی ہیں۔علاقائی منافرت پھیلانے کی کوشش ہوتی ہے۔فوج اور عوام میں فاصلے بڑھانے کی کوشش ہوتی ہے۔خود ہم سدھرنے کی کوشش کرتے نہیں ہیں۔ہمارے دشمن نے کئی بار ہمیں آزمانے کی کوشش کی اس مشکل میں فوج اور قوم کا کردار بھی دیکھا گیا۔اس بار بھی ایسا ہی منظر تھا۔پھر بھی ہمیں فوج کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہونے کی بجاۓ کچھ ایسے تبصرے دیکھنے کو ملے کہ حیران رہے۔ہماری فوج لڑتی ہے۔۔ قربانی دیتی ہے۔۔۔ دیتی رہی ہے۔۔بہادری کے لازوال داستان ان سے وابستہ ہیں۔ہم ان کے دست و بازو بننے کی بجاۓ ان پر تبصرہ کرتے ہیں۔ہم نے اپنے سامنے فلسطین،عراق،افعانستان،یوکرین کا منظر نامہ دیکھا ہے۔اگر محافظ نہ ہو تو گھر کا وجود کس طرح برقرار رہ سکتا ہے۔دوسری چیز قران کا وہ حکم ہے تم سے جتنا ہو سکے اپنے آپ کو مضبوط کر لو۔۔آج کل کی جنگ۔زمینی جنگ نہیں رہی۔۔فضاٶں،ہواوں،معاشی میدانوں،ٹیکنالوجی کے میدانوں میں جدید ہتھیاروں کے ساتھ لڑی جاتی ہے لیکن پھر بھی ان سب ہتھیاروں کے پیچھے جو طاقت ہے وہ ایمان کی طاقت ہے۔مسلمان کے لیے جنگ دونوں لحاظ سے خوش بختی ہے اللہ پر ایمان رکھنے والوں کا ایمان آخرت پر بھی ہے اور ان انعامات پر بھی ہے جن کا رب نے شہید کے لیے وعدہ کیا ہے۔پاکستان اللہ کے نام پہ حاصل کیا گیا ہے اس کی حفاظت اللہ کرے گا۔دشمن کے مکروہ عزائم اپنی جگہ لیکن ان کے مقابلے میں اس ملک کے شیردل محافظ ان کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے کافی ہیں۔اور ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرنے والوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ پائلٹ عائشہ اپنے جہاز سے جب میزائیل کا بٹن دبا رہی تھیں تو ان کی انگلی میں اللہ کی طاقت آگئی تھی۔۔
ہاتھ اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ
غالب و کار افرین کار کشا کارساز۔۔۔
یہ وہ طاقت ہے جو ہر ظلم اور ناحق کے خلاف جوہر دیکھاتی ہے۔۔کفار کے مقابلے میں صرف دعائیں اور توکل ہی نہیں ہر قسم کی برتری کی ضرورت ہوتی ہے۔۔اگر صحاباۓ کبار رض آج کے زمانے میں ہوتے تو لازما وہ فائٹر پائلٹ ہوتے۔۔ٹینک چلاتے۔۔ جدید ہتھیاروں کے ماہر ہوتے۔۔ یہی مسلمان کی شان ہے۔الحمد لللہ جنگ بندی ہوگئی ہے۔۔الحمد لللہ ہمارے جوانوں نے بہادری کی تاریخ رقم کی ہے۔۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ قوم بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی۔۔۔ مگر جنگ بندی جنہوں نے کرائی ہے کیا ان پر اعتبار کیا جاسکتا ہے۔یہ وہی امریکہ ہے کہ جو 1965ء کی جنگ میں اس نے بحری بیڑھا پیچنے کا اعلان کی مگر ان کا بحری بیڑھا بحر بند تک نہیں پہنچ سکا۔۔1971 ء ہم ان کی مدد کے منتظر رہے۔کیا وہ ہم سے مخلص ہے۔۔سارے عالم کفر کی آنکھیں ہم پہ لگی ہوئی ہیں۔۔انہوں نے اس جنگ میں ہمارے معیارکو پرکھا۔۔ہماری حیثیت پہچان گئے۔۔مذید ہم ان کے لیے خطرہ بن گئے۔۔کیا وہ ہم سے شیرو شکر ہو جائیں گے۔۔یہ ناممکن ہے۔۔اس لیے ہمیں مذید اپنے آپ کو سنبھالنا ہوگا۔۔ہر میدان میں آگے جانا ہوگا۔ہر لحاظ سے برتری حاصل کرنی ہوگی۔اللہ نے ہمیں سرخرو کیا ہمارے جوانوں کو سرخرو کیا۔اب اس کی لاج رکھنی ہے۔ہمارا یہ جنگی نعرہ اور بیانیہ صرف نعرہ ہی نہیں بلکہ نصب العین یے۔۔۔ہم بنیان المرصوص ہیں۔۔۔یہ ہماری شان اور پہچان ہے۔۔انشائاللہ یہ کیفیت برقرار رہے گی
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



