چترال (نمائندہ چترال میل) امیر جماعت اسلامی ضلع لویر چترال مولانا جمشید احمد نے آغا خان پلاننگ اینڈ بلڈنگ سروس کے چترال دفتر میں تین ڈرائیوروں کو پچیس سال ادارے کو خدمات سرانجام دینے کے بعد بغیر کسی مراعات کے گھر بھیجنے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس پر خاموش نہیں رہا جاسکتا کیونکہ جس معاشرے میں نا انصافی اور ظلم ہو، وہاں انارکی پھیل جاتی ہے۔ ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہاکہ ظلم اور ناانصافی کا شکار ہونے والوں کے لئے آواز بلند کرتے ہوئے لیبر ڈیپارٹمنٹ سمیت تمام متعلقہ فورم میں یہ مسئلہ اٹھایا جائے گا تاکہ مظلوموں کو انصاف مل سکے۔ انہوں نے کہاہے کہ 25سال کی مسلسل سروس کے بعد گریجویٹی، پنشن اور دوسرے مراعات کا حق دار ہوتا ہے لیکن اس ادارے میں ملازمیں سے جو شرمناک سلوک ہوا، قابل مذمت ہے جنہیں مبینہ طورپر دھکے دے دے کر گیٹ سے باہر نکالے گئے جوکہ اپنی حق کے لئے آواز بلند کرنا چاہتے تھے۔ مولاناجمشید احمد نے ادارے کے مرکزی ذمہ داراں پر زور دیا ہے کہ ان ملازمین کو اتنا گولڈن ہینڈ شیک دیا جائے تاکہ یہ معمولی کاروبار شروع کرکے اہل وعیال کے لئے نان نفقہ پید ا کرسکیں جس طرح اے کے ڈی این کے دوسرے اداروں میں ہوتا ہے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


