چترال (نما یندہ چترال میل) چترال کے ایک معروف کاروباری شخصیت ناصر احمد خان نے کہا ہے کرپشن میں ملوث شخص کو پارٹی کا صوبائی امیر منتخب کرنا جمعیت علمائے اسلام (ف)کے ساتھ انتہائی ذیادتی ہوگی جوکہ جید علمائے کرام اور دین سے والہانہ لگاؤ رکھنے اور ملک میں اسلامی شریعت کے لئے جدوجہد کرنے والے لوگوں کی جماعت ہے اور صوبائی امارت کے لئے امیدوار گل نصیب خان کسی بھی لحاظ سے صادق اورامین نہ ہونے اور بحیثیت سینیٹر بڑی اسکیل پر کرپشن اور خرد برد میں ملوث ہونے کی وجہ سے اس اعلیٰ عہدے کے لئے اہل ہرگز نہیں ہے۔ جمعہ کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جے یو آئی کے لیڈر مولانا گل نصیب خان ظاہر میں تو اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا ہے لیکن اندر سے وہ ظالم شخصیت کے مالک ہیں اور سرکاری خزانے میں خرد برد کروانے کے لئے اپنے بھائی زر نصیب خان کو آگے لاکر کرپشن کی نئی داستان رقم کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جے یو آئی ایک دینی جماعت ہے جس کے کسی بھی سطح کے امیر یا عہدیدار کو نیک، دیندار، خدا ترس اور کرپشن سے پاک شخصیت ہوناچاہئے جوکہ گل نصیب کا ان اوصاف سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے لہٰذا جے یو آئی کے ووٹ دہندہ گان سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس کرپٹ شخص کے بجائے کسی اور کے حق میں ووٹ دے دیں تاکہ ان کی جماعت پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ ناصر احمد خان نے گل نصیب خان کے کرپشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ سینیٹر کی حیثیت سے انہوں نے اپنی صوابدیدی فنڈز سے ترقیاتی کاموں کو پاک پی ڈبلیو ڈی بٹ خیلہ کے ذریعے کروانے کے لئے ٹھیکہ داروں سے ٹینڈر طلب کروائی اور ان تعمیراتی کاموں کا ٹھیکہ خود لینے کے لئے ان (ناصر احمد خان) کے تعمیراتی فرم کا رجسٹریشن جعلی طور پر استعمال کرکے یہ ٹھیکے حاصل کئے اور ان میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی۔ انہوں نے کہاکہ چونکہ نام ان کے فرم کا استعمال ہوا ہے اور ان کی جعلی دستخطوں اور پاک پی ڈبلیو ڈی کی ملی بھگت سے چیک بھی وصول کی ہے جس پر نیب کا ادارہ ان کے خلاف تحقیقات کررہی ہے جس میں وہ مکمل طور پر بے قصور ہے۔ انہوں نے چیلنج کرتے ہوئے کہاکہ ان کی دستخطوں کا فرانزک لیبارٹری کرایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے لیکن گل نصیب خان اپنی سیاسی اثرورسوخ کے ذریعے اس معاملے کو دبایا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ انہیں گل نصیب خان اور ان کے بھائی زرنصیب خان کی طرف سے برابر دھمکیاں مل رہی ہیں اور ان کی جان کو کوئی نقصان لاحق ہونے پر وہی ذمہ دار ٹھہرائے جائیں۔ انہوں نے حکومت سے انصاف طلب کرتے ہوئے کہاکہ ان کو گل نصیب کی جعل سازی کے پاداش میں کیس اور ان کی طرف سے ملنے والی دھمکیوں سے تحفظ فراہم کی جائے اور گل نصیب خان کو قرار واقعی سزا دے کر دوسروں کے لئے سامان عبرت بنایا جائے۔ انہوں نے ریجنل پولیس افیسر ملاکنڈ اور انسپکٹر جنرل پولیس سے بھی اپیل کی ہے کہ ان کی جان کو گل نصیب خان کی طرف سے لاحق خطرے کا نوٹس لیا جائے۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں پروموشن بیجز لگانے کی تقریب
- ہومچترال فٹ بال لیگ کا اختتام، جنگ بازار ایف سی نے پاکستان نیوی کو پنالٹیز پر شکست دے کر چیمپئن کا تاج اپنے سر سجا لیا
- مضامیندھڑکنوں کی زبان: ۔۔۔نظام ادھوری ہے۔۔۔تحریر: محمد جاوید حیات
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کی زیرِ صدارت اہم کرائم میٹنگ کا انعقاد
- ہومڈی پی او چترال اپر کی زیرِ صدارت کرائم میٹنگ، منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے اور عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایات
- مضامیندادبیداد۔ مسائل کا حل۔ ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کی صدارت میں ڈسٹرکٹ پولیس لویر چترال کی طرف سے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں چترال تحصیل کے عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی
- ہومنیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں داخلہ حاصل کرنے والی طالبہ کی حوصلہ افزائی، ڈی پی او چترال اپر کی جانب سے کمنڈیشن سرٹیفکیٹ اور کیش ریوارڈ
- مضامیندھڑکنوں کی زبان۔۔قناعت سب سے بڑی نعمت۔۔۔محمد جاوید حیات










