چترال (نمائندہ چترال میل)بدھ کے دن چترال سے دیرجانے والی موٹر کار ایون گاؤں کے سامنے دریا میں جاگری جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چھ افراد جان بحق ہوگئے جن میں سے چار کی لاشیں دریا سے برامد کرلی گئیں جن میں ڈرائیورتنویرولداسرار سکنہ چمرکن،سمیع الرحمن ولدحبیب الرحمن سکنہ گولوغ دنین،،نظام الدین،زوجہ نظام الدین چیوڈوک شامل ہیں جبکہ مفتی محمودسکنہ گرم چشمہ اور چار سالہ فہیم الدین ولد نظام الدین کی لاشیں تاحال برامد نہ ہوسکیں۔ گاڑی ڈیڑھ ہزار فٹ کی گہرائی میں دریا میں جاگری جبکہ حادثے کی وجہ تیز رفتاری بتائی جاتی ہے جوکہ ڈرائیور سے بے قابو ہوکر پہلے مخالف سمت میں آنے والی ایک موٹر کار سے ٹکراگئی اور دریامیں جاگری۔ لاشوں کو دریا سے نکالنے کے لئے ایون کے عوام موقع پر پہنچ گئے اور سرچ اپریشن میں حصہ لیا جبکہ حال ہی میں چترال میں قائم ہونے والی ریسکیو 1122کے جوان بھی موجود تھے تاہم اس ادارے کی کارکردگی کو عوام نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپریشن میں حصہ لینے والے نوجوان ایون کے جادید احمد، اسد اللہ جان اور دوسروں نے کہاکہ ریسکیو 1122کی ٹیم کی رسی عین اس وقت ٹوٹ گئی جب لاشوں کو دریا سے باہر نکالنے کے لئے باہر کھینچے جارہے تھے
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


