چترال (نمائندہ چترال میل) صوبائی حکومت کی طرف سے پیش کردہ اسپیشل تعلیمی ایکٹ 2017ء کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ضلع چترال میں پبلک سیکٹر سکولوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کے مختلف تنظیموں آل ٹیچرز ایسوسی ایشن، تنظیم اساتذہ پاکستان اور ایس ایس ٹی ایسوسی ایشن نے پیر کے روز چترال پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا اور ایکٹ کو یکسر مسترد، ناقابل عمل اور اساتذہ کے شان کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہاکہ بہتر کارکردگی پر اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی بجائے ان کی تذلیل کا سامان کیا جارہا ہے جسے ہر گزقبول نہیں کیا جائے گا۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے محمد مظفر الدین (آل ٹیچرز ایسوسی ایشن)، ضیاء الدین (تنظیم اساتذہ پاکستان)، وقار احمد (ایس ایس ٹی) اور منیر احمد شعبہ بہبود اساتذہ نے کہاکہ اس سال پرائیویٹ سکولوں سے 25ہزارکی تعداد میں بچوں کا سرکاری سکولوں میں داخل ہونا پبلک سیکٹرسکولوں کی بہتر کارکردگی کا مظہر ہے۔ا نہوں نے کہاکہ پرائمری سکولوں اساتذہ کی تعداد بڑہانے سے سرکاری سکولوں میں تعلیم کے معیار میں انقلاب آئے گا اور پرائیویٹ سیکٹر کے سکول خالی ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ا س ظالمانہ اور استاذ دشمنی پر مبنی ایکٹ کو واپس نہ لیا گیا تو اس کے نتائج کی ذمہ داری خود حکومت پر عائد ہوگی۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


