گھر کے سارے افراد شام کا کھانا کھانے کے بعد چند ثانیے کھانے کےبڑے کمرے میں ہی بیٹھے ہوۓ تھے سب اپنے اپنے سمارٹ فون میں محو تھے ۔بہو بیٹی اور دو گھر کی بیٹاں ننگے سر تھیں ایک بیٹا جو یونیورسٹی سے چھٹی پہ آۓتھے بہت کچھ دریافت کرنے پرکبھی “ہوں” “ہاں” کرتے ابھی محو سمارٹ فون ہوتے ۔ان سب کی ماں گاٶتکیہ سے ٹیک لگاۓ دراز تھیں گویا کہ ملکہ سلامت کے دم قدم سے ہی یہ گھر چل رہا تھا ۔ یکایک بلی کی میاو کی آواز آئی سب چونک پڑے بلی باورچی خأنے سے سیدھا کھانے کے کمرے کے دروازے سے سر نکال کے گویا کہہ رہی تھی کہ بھوک لگی ہے میں بدقسمتی سے دروازے کے سب سے قریب تھا ۔دل اس کی سریلی سی آواز پہ مچلا ۔۔سوچا ۔۔اس کو پاس بلایا جاۓ اس کو سدھایا جاۓ اس کو دودھ پینے کو دی جاۓ۔۔۔۔ سب نے یک لخت بلی کو گالیاں دی۔۔۔ سخت بد دعائیں دی ۔جس کے دست رس میں جو بھی تھا اس کی طرف پھینکا ۔بہو بیٹی بد حواسی میں اپنا سمارٹ فون تک اس کی طرف پھینکی۔بلی کب کی بھاگ چکی تھی مگر صلواتیں تھیں کہ سناٸی جارہی تھیں ۔ بیٹے نے نہایت خوفناک موڈ بنا کر کہا ابو تم تو اس منحوس کے سب سے قریب تھے مارا کیوں نہیں اس نجس کو گھر کو گندا کرتی ہے ۔۔۔ان کی ماں نے ہاں میں ہاں ملایا ۔۔کرارے لہجے میں فرمائی۔۔۔بلی سے ڈرتا ہے ۔۔بیٹی نےکچھ بولنے کے لیے اپنے آپ کو سنبھال ہی رہی تھی کہ میں نے ان کو خأموش رہنے کا اشارہ کیا میرے چہرے پر غضب کی تلخی ،نفرت ،سنجیدگی ،عاجزی اورناراضگی غود کر آئی تھی ۔۔میں نے کہا ۔۔۔میں بلی سے نہیں اللہ سے ڈرتا ہوں اس مہربان اللہ سے جس نے میرے اس گھر کو نعمتوں سےبھردیا ہے ۔ہر لمحے میرا ماضی شکر بن کر میرا منہ چھڑتا ہے مجھے جھنجھوڑتا ہے ۔میری اوقات کردار بن کر سکرین پہ آجاتی ہیں۔میری پیدائش جس گھر میں ہوٸی یہ گاٶں کا متمول گھرانا تھا ۔۔ مگرگھر میں چار کمرے تھے ایک مہمان خانہ ایک سٹور ،دو بڑے کمرے ۔۔سارا خاندان اس میں رہتا تھا ۔۔واجبی سا لباس ،عام سے بسترے ،عام سا کھانا ۔لیکن سب کے چہروں پر اطمنان اور متانت جھلکتی تھی ۔”شکر” لفظ بن کر ابو امی کی زبان پہ ورد رہتا ۔گھر میں ایک ریاست کا ماحول تھا ایک حکم چلتا ،ایک مشورہ جنم پاتا ،ایک احترام سرایت کرتا ۔سب اپنے اپنے مقام پہ ہوتے ایک روٹین ایک اصول کی حکمرانی تھی ۔پھر ترقی آگئی ۔گھوڑا بھیجا گیا سواری کے لیے گاڑی آگئی۔لالٹین بجھی روشنی کے قندیل کی جگہ بجلی کے قمقمے أگئے۔لباس کی سادگی گئی زرق برق لباس أگئے۔ انداز بدلا ۔فیشن بدلے ۔چادر دوپٹا بن گئی پھر سر سے سرک گئی ۔ عورت کےبال چھپا کرتے تھے کھلے اور فیشن بن گئے ۔ الفاظ،لہجہ ،انداز بدلے ۔۔تعلیم آگئی تو تعظیم اٹھ گئی ۔بیداری آگئی فاصلے مٹ گئے۔گھر وسیع ہوگیا ۔۔ہرایک کا اپنا کمرہ بنا ۔خوراک پوشاک کا کوئی مسلہ ہی نہیں رہا ۔خاموش ہو جاو۔۔میں بلی سے ڈرتا ہوں۔میں ان نعمتوں سے ڈرتا ہوں ۔کہیں یہ عیاشیاں بے چینیاں ساتھ نہ لائیں۔میں اپنے دروازے پہ آۓ سب محتاجوں سے ڈرتا ہوں ۔میں اس دولت سےڈرتا ہوں میں اپنے بچوں کے غرور سے ڈرتا ہوں۔میں اس کو تعلیم نہیں جہالت کہتا ہوں ۔۔میرا گھر جہالت کا اڈہ ہے ۔انسانیت کا جنازہ نکل چکا ہے جس گھر میں بلی کا احترام ہو سمجھو اس میں ابھی انسانیت زندہ ہے جس گھر میں بلی بھوکا مرے وہاں پرانسانوں کا کیا حال ہوگا ۔میرےگھر کی تنہائیاں مجھے ڈس رہی ہیں ۔۔سب کے ہوتے ہوۓ تم سب تنہا ہو اکیلا پن کی آگ میں جل رہے ہو ۔تم نےمحبت کی خوشبو ہی نہیں سونگھی ہے تم نے احترام کا درس ہی نہیں لیا ہے ۔تم اندھیکاریوں کے عذاب سہے نہیں ہو ۔اس لیے میں تم سب سے ڈرتا ہوں ۔جو انسان اپنے رب کے احسانات کا اندازہ نہیں لگا سکتا اس سے زیادہ ظالم کوں ہوگا ۔۔تم ظالم ہو نا شکرا ہو ۔مجھے میرے ماضی کی قسم میں بہت ڈرتا ہوں ۔تمہاری ماں کو لگی کہ میں بلی سے ڈرتا ہوں ۔۔ میں تمہاری باغیانہ رویے سے ڈرتا ہوں اگر بلی سے نہ ڈرنا بہادری ہے تو بلا شبہ تم سب بہادر ہو میں ڈرپوک ہوں ۔۔۔لیکن میں رب کی ناراضگی اور آزمائش سے ڈرتا ہوں ۔جس گھر کامیں خواب دیکھا کرتا تھایہ وہ گھر نہیں ہے جن اولاد کی آرزو مجھے تھی تم وہ اولاد نہیں ہو ۔جس تعلیم کو میں تعلیم سمجھتا تھا ۔یہ نری جہالت ہے ۔میں سوچا کرتا تھا کہ میرے تعلیم یافتہ بچوں کے چہروں سے شرافت کی روشنی نکلے گی ۔ان کالہجہ نرم ہوگا وہ خدمت اور انسانیت کا استعارہ ہوںگے ۔میری بیگم گھر کی ملکہ ،میری بہو گھر کی رونق اور میری بیٹیاں گھر کی شہزادیاں ہوںگی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ۔۔یہ روبوٹک انوایرمنٹ ہے ۔۔ یہ جنگل کیوں بن گیا ۔۔درندوں کا مسکن ۔۔۔لگتا ہے کہ یہ ایک دوسرے کو چھیر پھاڑدیں گے ۔۔سانسیں نفرت کی ۔۔نظریں نفرت کی ۔الفاظ نفرت کے ۔۔احساسات نفرت کے ۔۔
میرے مولا مجھے اتنا تو معتبر کردے ۔۔۔۔
میں
جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے ۔۔
میں بالکل بلی سے ڈرتا ہوں ۔۔کم از کم اس کی چلت پھرت سنجیدہ ۔۔نشست سنجیدہ ۔۔۔لقمہ بناتے ہوۓ اس کا انداز سنجیدہ ۔۔اپنے شکار پر اس کا حملہ منصوبہ بندی کے ساتھ سنجیدہ ۔۔۔لہذا بلی سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تازہ ترین
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومٹریفک پولیس ڈرائیونگ سکول لوئر چترال کا آٹھواں بیچ کامیابی کے ساتھ مکمل


