آداب گفتگو ۔۔۔۔۔۔ تحریر: اقبال حیات اف برغذی

Print Friendly, PDF & Email

آداب گفتگو ۔۔۔۔۔۔ تحریر: اقبال حیات اف برغذی
شادی کی تقریب کے سلسلے میں ایک محفل جمی تھی۔مختلف فکروخیال،نظریات اور رنگ ڈھنگ والے شریک محفل تھے۔بدلتے ہوئے موضوعات پر گفت وشنید کا سلسلہ گرم تھا۔ہرکوئی اپنا مافی الضمیر بیاں کررہا تھا۔بعض عامیانہ اور بعض عالمانہ انداز کے ہوتے تھے۔ایک شخص سر چڑھ کر بولنے کی کوشش کررہاتھا۔ اپنے خیالات اور آرا کو محفل پر تھونپنے اوراپنی بالادستی دکھانے کا خبط اس پر سوار تھا۔ گفتگو کے اندازمیں رعونت جھانکنیکا احساس ہوتا تھا۔دوسری طرف بعض شریک محفل آپس کی دوستی اور آزاد طبعی کی بنیاد پرغیر شائستہ الفاظ ایک دوسرے کے لئے استعمال کرکے انہیں ہنسی مذاق کا رنگ دیتے تھے۔جو لغویات کے زمرے میں آتے تھے۔جن سے اعراض کوقرآن مومن کی پہچان سے تعبیر کرتا ہے۔اسی طرح کوئی اونچی آواز میں چیخ چیخ کرکوئی دھیمی اور لطیف پیرائے میں کوئی ہاتھوں اور آنکھوں کے حرکات کے ساتھ کررہا تھا۔ہمارے عظیم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت الخلا سے لے کر بیت اللہ تک کی زندگی کے آڈاب سکھا کرگئے ہیں اور زندگی کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں چھوڑے ہیں۔ بات کرنے کا طریقہ اور اسلوب بھی اس میں شامل ہں۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت کو تین چیزیں ناپسند ہیں۔بے مقصد گفتگو،مال کا بیجا ضیاع اور غیر ضروری سوال۔اسی طرح ایک اور ارشاد ہے کہ کسی بندے کا ایمان سید ھا نہیں ہوتا جب تک اس کا دل سیدھا نہ ہو دل اس وقت تک سیدھا نہیں ہوتا جب تک زبان سیدھا نہ ہو۔لقمان حکیم سے حکمت کے حصول کے اوصاف کے بارے میں دریافت کرنے پر وہ فرماتے ہیں کہ میں بے ضرورت سوال اور بے مقصد گفتگو سے اجتنا ب کرتا ہوں۔حضرت علی کرم وجہو فرماتے ہیں کہ آدمی اپنی زبان کے پیچھے چھپا ہوتا ہے۔ اس لئے انسانی شخصیت کا پہلا اندازہ چہرے کو دیکھنے اور دوسرا حتمی اندازہ اس کی گفتگو سے ہوتا ہے۔
قرآن کریم لوگوں سے اچھے انداز اور الفاظ میں گفتگو کی تلقین کرتا ہے اور زبان کا بغیر ہڈی کے ہونا گفتار میں نرمی کا آئینہ دار ہے۔مفسریں لکھتے ہیں کہ قرآن مجید کا درمیانی لفظ ”ولیتلف” بنتا ہے۔گویا کہ قرآن مجید کا مرکزی پیغام ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے نرمی کا معاملہ کرنیکے بارے میں ہے۔اسی طرح قرآن اپنی آواز کو پست کرنے کی تلقین کرتے ہوئے گدھے کی آواز کو سب آوازوں میں بری قرار دیتا ہے۔
گفتگو ہمیشہ بے مقصدر،ہجو گوئی،جھوٹ،مبالغہ آرائی کسی کی دل آزاری اور لغویات سے مبرا ہونا چاہیے۔ بہتر کلام وہ ہے جو تھوڑا ہو،مدلل ہو اور مخاطب کو ناگوار نہ ہو۔ کسی جاہل انسان سے سابقہ پڑنے کی صورت میں بحث وتکرار کی بجائے سلامتی کی بات کرکے اپنی گلو خلاصی کرنی چاہیے تول کر اور سوچ کر بات کرنا چاہیے کیونکہ ایک حدیث کی روسے ایک ہی بات سے تاقیامت اللہ تعالی کی خوشنودی یا تا قیامت ناراضگی ہاتھ آتی ہے۔ کسی کی باتوں میں مخلل ہونے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
زبان انسانی جسم میں ایک ایسا عضو ہے جس کے مثبت او رمنفی پہلووں کے اثرات دیگر اعضاء پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اور کھوار کے ”کروئی لیگینی شہ کپالتو بان” قول کے مطابق زبان کے غلط استعمال کا خمیازہ دوسرے اعضاء کو بھگتنا پڑتا ہے۔
مختصر یہ کہ یہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے وہ حقائق ہیں۔جن کی پاسداری میں دونوں جہانوں کے امن وسکون کی ضمانت ملتی ہے۔