بے شک انسان اللہ کا ناشکر ہے ۔۔۔تحریر: اقبال حیا ت اف برغذی
انسانی زندگی میں رونما ہونے والے تمام حالات اور واقعات چاہے مثبت نوعیت کے ہوں یا منفی سب اللہ رب العزت کی منشاء اور حکم سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔”کبھی خوشی کبھی غم ” کبھی راحت کبھی بدحالی الغرض انسانی معاشرے میں پائے جانے والے تمام رنگ میں مالک حقیقی کی خواہش اور رضا کا عمل دخل ہوتا ہے۔ رضائے الہی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے شکر ادا کرنے کے علاوہ کسی اور ردعمل کا اظہار کرنا نافرمانی کے مترادف ہوگا۔ ”مرضی مولا ازہمہ اولیٰ” کے تصور کے مطابق اسلام ہمیں ہر حال میں شکر گزاری کا درس دیتا ہے۔ شکر گزاری کی صورت میں نعمتو ں کی فراوانی اور ناشکری پر اپنی گرفت کی سختی کا ذکر قرآن کے ذریعے رب کائنات کی طرف سے ہماری رہنمائی کی جاتی ہے۔ ایک فائدہ مند اوردل پسند نعمت سے مستفید ہونے پر انسان کی دلی کیفیت کا رنگ اسی نوعیت کی خواہش کے خلاف حالات رونما ہونے پر بھی برقرار رہے تو اسے اکمل ایمان کی علامت سے تعیبر کیا جاتا ہے۔ خدا کی نعمتوں سے مستفید ہونے پر متانت سنجیدگی غریب پروری اور عاجزی کے اوصاف کا حامل ہونا اور اس کے برعکس غربت،بدحالی اور مفلسی سے واسطے کی صورت میں گریہ وراری،فریاد اور شکوہ شکایت سے اجتناب اپنی نوعیت کے اعتبار سے حقیقی بندگی کے عکاس ہیں۔
ماضی قریب میں سرزمین چترال کے باسی مجموعی طور پر معاشی زبوں حالی سے اس قدر دوچار تھے کہ تن کے لئے چھیتڑ ے کپڑوں کا حصول بھی دشوار تھا۔ضروریات زندگی دور دراز علاقوں تک پیٹھ پر اٹھائے کوسوں میل دور ننگے پاوں پیدل پہنچائے جاتے تھے۔ سوکھی روٹی جسے عرف عام میں ”براٹ ” کہا جاتا ہے پانی کے ساتھ کھا کر پیٹ کی آگ بجھائی جاتی تھی۔ مگر انتہائی ناگفتہ بہہ حالات اور زبوں حالی کا رنگ نہ چہرے پر اور نہ الفاظ کی صورت میں زبان پر لائے جاتے تھے۔اپنی کسمپرسی اور مخدوش حالات کے باوجود ہر کوئی شکر گزاری اور قناعت کی دولت سے مالامال ہوتا تھا۔ اور نظریں للچاہٹ اور دل حرص وہوس سے ناآشنا ہوتے تھے۔ باہمی محبت،رواداری اور اخلاص کی مہک سے سرزمین چترال معطر تھی۔لیکن جب مادہ پرستی کی ہوا چلنی شروع ہوئی تو شریعت کے خلاف دولت وثروت میں اپنے سے اوپر دیکھنے کا رجحان پیدا ہونے لگا۔ اور یوں دوسروں کو دیکھ کر آہ بھرنے کی کیفیت سے دوچار ہوکر قناعت اور شکر گزاری کی صفتین معدوم ہوتی گئیں۔ اور آج حالت یہ ہے کہ ”ھل من مزید” کی خواہش ہر کسی کے دل میں موجزن ہے انسانی زندگی کونا شکری کا ایسا مرض لاحق ہوا ہے کہ ہر قسم کی نعمتوں کی فراوانی کے باوجود ”ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے” کے شکنجے میں پھنسا ہوا ہے۔ ہر کسی کے گھر کے آنگن میں گاڑی نہیں۔تو کم ازکم موٹر سائیکل کھڑی ہونے کے باوجودمہنگائی اور بدحالی کا رونا روتے ہوئے آنسو خشک نہیں ہوتے۔ حرام حلال کی تمیز سے ناآشنا مال ودولت کے حصول کے لئے ہرکوئی سرگرم عمل ہے اور موبائل پر لغویات کی یلغار میں ہر کوئی مگن ہے۔
موسی علیہ السلام اللہ رب العزت سے ہمکلامی کے لئے کوہ طور جارہے تھے راستے میں غربت کی وجہ سے کپڑا نہ ملنے پر ریت سے اپنا پردہ کئے ہوئے ایک شخص آپ سے اپنی حالات زار اللہ پاک تک پہچانے کی درخواست کرتے ہیں۔ ہمکلامی سے فراغت کے بعد رب کائنات خود اس شخص کے سوال کی یاد دہانی کرتے ہوئے اپنے پیغمبر سے اس شخص کو شکر کی ہدایت کرتے ہیں۔ واپسی پر موسی علیہ السلام کی طرف اللہ پاک کا پیغام سن کر اس شخص کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلتے ہیں کہ ”میرے پاس ہے کیا جس کا شکر ادا کروں ”۔ اس لمحے ہوا کا ایک تیز جھونکا آکر اس کے زیر استعمال ریت کو اٹھا کر لیجانے پر وہ شخص بے پردہ ہوجاتا ہے۔
اس تناظر میں جب موجودہ حالات کا جائزہ لیا جاتا ہیتو دل میں یہ خوف پیدا ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں ایسے حالات سے دوچار نہ کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



