چترال (نما یندہ چترال میل) اسلامی جمعیت طلبہ خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل اعجازا لحق سرانی نے سرکاری کالجوں کی پرائیویٹائزیشن کے لئے راہ ہموار کرنے کی کوشش پرطلبہ برادری کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہا رکرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ظالمانہ قدم سے غریبوپر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند ہوں گے اور طبقاتی نظام کو یہ مزید مضبوط کرے گا اور اسلامی جمعیت طلبہ کی موجودگی میں کوئی مائی کا لعل اسے عملی شکل نہیں دے سکے گا۔ جمعہ کے روز چترالں پریس کلب میں مقامی رہنماؤں عبدالرزاق، ساجد نجوی، اشفاق احمد، شائر معین الحق، کامل الدین، انضمام الحق، مستظہر باللہ د، صادق اللہ اوروسروں کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت برسراقتدار آنے سے پہلے تعلیم کو قوم کی ترقی کے لئے تریاق قرار دیا تھا لیکن حکومت ملنے کے بعد تعلیم کو تجارت بنادیا ہے اور طلبہ کو لوٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیااور کورونا کی عالمی وباء کے دوران تعلیمی اداروں کے بندش کے باوجود فیسیں وصول کرلی اور اب کالجوں کی پرائیویٹائزیشن کی بات کرکے اس ظلم کو انتہا تک پہنچارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی بجٹ پر ناجائز کٹ لگاکر اسے بے دست وپا کرکے رکھ دی ہے جوکہ دراصل اس حکومت کی تعلیم دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کے نتیجے میں ملک بھر کے جامعات طلباء پر بھاری فیسوں کا بوجھ ڈال دی ہے جس کاثبوت یہ ہے کہ گزشتہ سال ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی246بیلین روپے کی ڈیمانڈ کے صرف 91بیلین روپے منظور کیا جوکہ بہت بڑا فرق ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے رہنما نے اسٹوڈنٹس کو درپیش مسائل بیان کرتے ہوئے مزید کہاکہ طلبہ یونین تعلیمی اداروں کے لئے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں جہاں نئی نسل کی تربیت ہوتی ہے لیکن طلبہ یونین پر پابندی بدستور برقرار ہے جنہیں ایک فوجی آمر نے بین کردیا تھا۔ انہوں نے کورونا کی وباء کے دوران طلبہ سے وصول کردہ فیسوں کو اگلے سمسٹروں میں ایڈجسٹ کرنے یا ان کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت نے تعلیمی اداروں کو تجربہ گاہ بنانے پر تلی ہوئی ہے جس میں سب سے ذیادہ متاثر میڈیکل کی تعلیم ہوئی ہے کیونکہ پی ایم ڈی سی کی بجائے پی ایم سی بناکر اس میں غیر پیشہ ور افراد کو بٹھائے گئے ہیں جس سے گزشتہ دوسالوں کے اندر جو تماشا لگا ہوا ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے چترال یونیورسٹی کے لئے بلڈنگ بنانے اور اسے صحیح معنوں میں جامعہ کا درجہ دینے اور طلباوطالبات کے لئے خصوصی وضائف کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی جمعیت طلبہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی سب سے ذیادہ فعال تنظیم ہونے کے ناطے اس سال بھی مختلف مہمات کا فیصلہ کیا ہے جن میں “تعلیم سے تعمیر”، تکریم اساتذہ کا ہفتہ شامل ہیں جبکہ قومی لیول پر کنونشن نومبر میں اسلام آباد میں منعقدہوگاجبکہ خیبر پختونخوا میں چترال سے ڈی آئی خان تک روڈ کاروان کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔
تازہ ترین
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومٹریفک پولیس ڈرائیونگ سکول لوئر چترال کا آٹھواں بیچ کامیابی کے ساتھ مکمل


