چترال (نمائندہ چترال میل) گرم چشمہ چترال سے تعلق رکھنے والے سمندرپاکسانی سرمایہ کار الیاس احمد نے وزیر اعظم پاکستان اور دوسرے حکام سے اپیل کی ہے کہ انہیں محمد حسین نامی ایک مقامی قبضہ مافیا کی ذیادتی سے نجات دلائی جائے جوکہ ان کی ملکیتی زمین پر قبضہ کرکے انہیں زخم کرنے، جھوٹے فوجداری مقدمات میں پھنسانے اور کورٹ کچہریوں میں ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا ہوا ہے جبکہ وہ یہاں اپنی زمین میں سرمایہ کاری کرکے علاقے میں معاشی سرگرمیوں کو ترقی دینے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ اتوار کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ان کے والدفیاض احمد نے 2009ء میں زیدک گبور کے مقام پر اتالیق جعفر علی شاہ کے فرزند حیدر علی شاہ سے 790کنال قطعہ اراضی خریدلی تھی جس میں سے 40کنال زمین کو انہوں نے کچھ لوگوں کو سالانہ کرائے پر دے دیا اور چار سال تک ان سے کرایہ لیتا رہا تھاکہ اس دوران محمد حسین نے میرے باپ سے بھتہ کا تقاضا کیا لیکن انکار پر انہوں نے کرایہ داروں کو ورغلا کر ان کو شہ دے کر ان کے خلاف میدان میں لایا۔ انہوں نے کہاکہ محمد حسین علاقے کی مشترکہ چراگاہ پر قبضہ جما کر اس میں مال مویشی چرانے والوں سے بھتہ لینے کا سلسلہ شروع کردیا جس پر بورڈ آف ریونیو خیبر پختونخوا کے سینئر ممبر نے ان کے خلاف کاروائی کا حکم دیا تھا مگر ان کو منظم گروہ کی پشت پناہی حاصل ہونے کی وجہ سے کاروائی سے بچتے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس سال جب وہ مزدوروں کو لے کراپنی ملکیتی زمین میں جاکر کام شروع کیا تو محمد حسین وہاں بھی آکر ان کے خلاف برسرپیکار ہوگئے اور ہم پر حملہ آور ہوگئے جس کے نتیجے میں ان کے کان میں 19ٹانکے لگ گئے اور الٹا ان کے خِلاف پرچہ دائر کرکے ان کو ہسپتال کے بیڈ پر زنجیروں سے باندھے رکھا گیا اور ان کی خاندانی زندگی بھی متاثر ہوکر رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پرائم منسٹر پورٹل میں شکایت پر اے سی ریونیو چترال نے علاقے کا وزٹ کرکے محمد حسین کے خلاف رپورٹ دی تھی اور زمین کو تاتصفیہ عدالت سرکاری تحویل میں لینے کے لئے دفعہ 145لگائی تھی لیکن مقامی عدالت نے اس حکم کو معطل کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کو ان کا وعدہ یاد دلاتے ہوئے کہاکہ سمندرپار پاکستانیوں کو قبضہ مافیا سے مکمل تحفظ دیا جائے گااور انہیں غیر ضروری مقدمہ بازی سے بچائے جائے گا لیکن یہاں وہ اپنی ملکیتی زمین پر قدم نہیں رکھ سکتے ہیں۔ الیاس احمد نے کہاکہ محمد حسین نامی شخص بہت سارے غیر قانونی کاموں میں ملوث ہے جن میں زمینوں اور چراگاہوں پر قبضہ جمانا، سرکاری جائیداد کو بھی فروخت کرنا، سرکاری ملازمتیں دینے کی لالچ دے کر پیسہ بٹورناشامل ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے اپنے پاس موجود سرکاری دستاویزات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ زیدک گبور میں قطعہ اراضی کو ان کے باپ فیاض احمد نے باقاعدہ قانونی طور پراتالیق سرفراز شاہ اور اتالیق جعفر علی شاہ کے ورثاء سے خرید لیا تھا۔ انہوں نے وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور دوسرے حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کو انصاف فراہم کیا جائے۔
تازہ ترین
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومٹریفک پولیس ڈرائیونگ سکول لوئر چترال کا آٹھواں بیچ کامیابی کے ساتھ مکمل


