چترال(نما یندہ چترال میل)سابق نائیبر ہوڈ ناظم منظور احمد ایڈوکیٹ،سماجی کارکنان سیف الدین اور شکیل احمد جناح نے ایک مشترکہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ چترال ٹاون کو زمانہ قدیم سے مختلف دیہات کا مجموعہ کہا گیا ہے۔دیہات کے نام ہیں لیکن زرگراندہ کا نام خاص ”چھترار” ہے یہ بات تاریخ چترال سے ثابت ہے اس لییکہ ملحقہ دیہات کے مخصوص نام ہیں مثلا جغور،ہون،مستجپان دہہ،خورکشاندہ،مغلان دہ،آڑیان،موڑ دہ اور زرگراندہ کو صرف ”چھترار” کہا گیا ہے اس لیے چترال کی جو مشہور ندی زرگراندہ کے ساتھ گزرتی ہے اس کا نام ”چھترار گول ” ہے زرگراندہ نام بہت بعد میں یہا ں پر ہندو زرگروں کے بسیرے کی وجہ سے پڑا ہے۔اس گاو?ں میں شاہی قلعہ موجود ہے جو اس کے اصل چترال ہونے کا ثبوت ہے۔یہ ”اصل چترال” چترال ٹاون کا دل ہے اس لیے کہ کالجز،بڑے بڑے ہوسٹلز،شناختی کارڈ کا دفتر، ڈی ایچ کیو ہسپتال،پولیس کے دفاتر کونسل تمام عدالتی دفاتر سکول پرس کلب،رہایشی کرایے کے مکانات،بچیوں کی ہوسٹلیں شاہی قلعہ گودام پرنٹنگ پرس گویا کہ سارے اہم دفاتر ادھر ہی ہیں۔لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں پر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ٹاون میں یہ علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہے۔ یہاں پر پینے کے پانی کا مسلہ ہے بجلی کی لوڈ شیڈنگ یہا ں سے شروع ہوتی ہے روڈ نام کی کوء چیز نہیں گلیاں تنگ اور گزرنے کے قابل نہیں۔سکوریٹی کا کوء انتظام نہیں۔حکومت کی کوئی توجہ اس اصل چترال کی طرف نہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ٹاون کے لیے حالیہ حکومتی فنڈ جو کہ خطیر رقم ہے اس میں اس گاو?ں کا کوء حصہ نہیں۔محلقہ سارے گاو?ں میں پایپ لاین،بڑے گیٹ،سرچ لایٹ گاو?ں کے درمیان راستوں اور گلیوں کی پختگی اور کشادگی کے بڑے بڑے منصوبے رکھے گیے ہیں اور ایم این صاحب نے باقاعدہ ان کا افتتاح بھی کیا ہے۔اس علاقے کو بالکل محروم رکھنے کی منطق سمجھ میں نہیں آتی۔گاوں کے مکین اس محرومی پر بہت مایوس اور سیخ پا ہیں ممکن ہے اپنی اس محرومی کے خلاف میدان میں آجائے۔اُنہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر لویرچترال چترال پولیس ہسپتال عملہ اس سلسلے میں خاموش کیوں ہیں میں حکام بالا سیاسی نمایندوں خاص کر مشیر خاص وزیر زادہ اور ایم این اے صاحب کی توجہ اس۔۔۔مسلے کی طرف دلانا چاہتے ہیں اور انتظامیہ کی نوٹس میں لانا چاہتے ہیں کہ زرگراندہ کی اس محرومی کا نوٹس لے کر مزکورہ فنڈ سے اس کا حصہ دیا جایے اور اس کے درینہ مسائل کو ترجیحی بنیاد پر حل کیا جایے۔
تازہ ترین
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومٹریفک پولیس ڈرائیونگ سکول لوئر چترال کا آٹھواں بیچ کامیابی کے ساتھ مکمل


