داد بیداد ،،،،،ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی،،،،زلزلہ کیو ں؟
زلزلہ کیو ں؟
کسی ملک میں باد شاہ تھا باد شاہ کا تکیۂ کلا م”زلزلہ“تھا کوئی بات ہو تی کوئی عرضی آتی کوئی تجویز آتی کوئی خبر آتی وہ ایک ہی بات کر تا ”زلزلہ“ رعایا اپنے باد شاہ کو صو فی اور مجذوب سمجھ کر ان سے محبت کرتی تھی باہر کے ملکوں سے مہما ن آتے تو بادشاہ کی باتیں سن کر حیراں ہو تے تھے زلزلہ کیوں؟ آخر باد شاہ کی زبان اسی ایک بات پر کیوں اٹکی ہو ئی ہے؟ جس ملک کا وہ باد شاہ تھا اُس ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی زرعی پیداوار کی بہتات تھی، گیس اور تیل کے بڑے بڑے ذخا ئر تھے بندر گاہوں پر تجا رتی سا مان لیکر جہاز آتے تھے کا رخا نوں کا ما ل قریبی مما لک میں ہا تھوں ہاتھ لیا جاتا تھا دور دراز کے مما لک کے لئے بھی جہا ز بھر کر بھیجے جا تے تھے اوپر سے دیکھو تو ملک دولت سے ما لا ما ل تھا اس کے باو جو د غر بت بہت زیا دہ تھی، بے روز گاری حد سے بڑھی ہوئی تھی دفاتر میں رشوت کے بغیر کام نہیں ہو تا تھا، عدا لتوں میں صرف دولت مند طبقے کے مقدمات پر غور ہو تا تھا غریبوں کے مقد مات کئی سا لوں تک التوامیں پڑے رہتے تھے ملک کے تر قیاتی بجٹ کا بڑا حصہ بد عنوا نی کی نذر ہو جا تا تھا 10کروڑ روپے کا پُل زیر تعمیر ہو تو 6کروڑ روپے غا ئب ہو جا تے تھے صر ف 4کروڑ روپے پُل پر لگا ئے جا تے تھے ایک دن با د شاہ کا دربار لگا ہواتھا ہمسایہ ملک سے آنے والا مہمان بھی دربار میں بیٹھا ہوا تھا دربار میں چارسائیل آگئے ایک نے التجا کی عا لیجا ہ! میرے دو بیٹے ما رے گئے قا تلوں کو گرفتار کرنے کے بعد چھوڑدیا گیا میں فر یا د لیکر آیا ہوں رحم کیجئے باد شاہ نے پر سکون لہجے میں کہا ”زلزلہ“ دوسرا سائل آیا اُس نے اپنی عرضی پیش کر تے ہوئے کہا جہاں پنا ہ! 8سالوں سے در یا میں طغیا نی آرہی ہے میرے سر سبز کھیت اور ہرے بھرے با غات دریا کے کٹاؤ کی وجہ سے ہر سال برباد ہو رہے ہیں مین نے ہر ایک دروازے پر دستک دی ہے کسی نے نہیں سنی اس لئے آپ کی بار گاہ میں حا ضر ہوا ہوں میرے حال پر رحم فر ما ئیے میرے جا ئداد کو دریا کے کٹا ؤ سے بچا نے کے لئے بند ھ باندھنے کا حکم دیجئیے باد شاہ نے پر سکون لہجے میں کہا ”زلزلہ“ تیسرا سائل آیا اُس نے اپنی کتھا یوں سنا ئی ”عا لیجا ہ! میر ی بیٹی 4سال بیرون ملک تعلیم کر نے کے بعد وطن واپس آ کر 2سا لوں سے در در کی ٹھو کر یں کھا رہی ہے نہ اس کو پرانی نو کری پر دو بارہ بحا ل کیا جا تا ہے نہ نئی پو سٹ کے لئے اس کی ڈگری پر غور ہو تا ہے اب وہ تنگ آ کر واپس دیار غیر جا نے کی تیاری کر رہی ہے آپ غریب پرور ہیں میری بیٹی کی اعلیٰ تعلیم کو ملک اور قوم کے لئے مفید بنا نے کے لئے اس کو ملک کے اندر منا سب روز گار دیکر بیرون ملک جا نے سے بچا لیجئے!“ باد شاہ نے کہا ”زلزلہ“ چو تھا سائل آیا اُس نے التجا کر تے ہوئے کہا ظل الٰہی! مجھے 15سال پہلے سر کاری ہسپتال بنا نے کا ٹھیکہ ملا تھا میں نے کام مکمل کیا اب مجھے بل ادا کرنے کے لئے محکمہ کے پاس پیسے نہیں ہیں میں نے اپنی جمع پو نجی ہسپتال کی تعمیر پر لگا ئی اب میں کوڑی کوڑی کا محتاج ہو ں میرے حال پر رحم کیجئے باد شاہ نے کہا ”زلزلہ“ دربار یوں کو اس طرح کے دربار کی عادت تھی اجنبی بہت حیراں ہوا حیرت کے ما رے اُس نے کہا عا لیجا ہ! جا ن کی امان پاوں تو کچھ عرض گذار وں! باد شاہ نے اجا زت دی تو اس نے کہا آپ ہر درد کی دوا کے طور پر ”زلزلہ“ کا نا م لیتے ہیں اس میں کیا حکمت ہے؟ باد شاہ نے کہا میں جس دن تخت پر بیٹھا میرا خیال تھا کہ رعا یا کی دل کھول کر خد مت کروں گا لیکن میرے دفتروں کے جو کَل پُر زے ہیں وہ مجھے کام کرنے نہیں دیتے سسٹم میرے پاوں کی زنجیر بن گیا ہے نظام حکومت نے میرے ہاتھ باندھ دیئے ہیں اس کا ایک ہی حل ہے ”زلزلہ“ جب تک اس سسٹم کو اکھاڑ کر نہیں پھینکا جائے گا تب تک حالات ایسے رہینگے جب زلزلہ اس کو نیست نا بود کردے گاتو اس کے ملبے سے انصاف برآمد ہو گا، کار کر دگی دکھا ئی دے گی اس لئے میں کہتا ہوں ”زلزلہ“اگر چہ یہ باد شاہ ہمارے ملک کا نہیں تھا مگر اس کے دربار میں جو سوالی اور فر یا دی آئے وہ سب ہمارے ملک کے سوا لیوں اور فر یادیوں جیسے تھے اُن کے حا لات بھی ہمارے حالات کی طرح تھے ان کے باد شاہ کو زلزلے کی ضرورت تھی ہمارے ہاں جمہوری لیڈر کی جگہ کوئی باد شاہ ہوتا تو وہ بھی کم و بیش یہی حل تجویز کرتا سسٹم کو اکھاڑ دو، عمارت کی بنیا د وں کو ہلا دو سب کو تہہ با لا کر دو ہر چیز کو الٹ دو تب جا کر ملک کی کایا پلٹ جائیگی ور نہ کچھ بھی نہیں ہو گا با د شاہ کتنے بھی نیک ارادے لیکر آئے وہ رعا یا کے لئے کچھ نہیں کر سکیگا رعا یا کی فلا ح کے لئے فرانس، روس، چین اور ایران جیسے زلزلہ کی ضرورت ہے۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



