داد بیداد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر شہری کا مفت علا ج
ہر شہری کا مفت علا ج
مو جو دہ حکومت کا یہ قدم انقلا بی اور نا قا بل فراموش قدم ہے جس کے تحت ہر شہری کو مفت علا ج کی سہو لت دینے کا پرو گرام شروع کیا گیا ہے
صوبہ خیبر پختونخوا میں مفت علا ج کی سہو لت 100فیصد شہریوں کو دی گئی ہے اگر ہر ضلع کی تما م ہسپتا لوں میں علا ج کی سہو لیات بھی دستیاب ہوتیں تو ہر شہری مفت علا ج کی اس سہو لت سے فائدہ اٹھا لیتا اس سکیم کی خو بی یہ ہے کہ سکیم کے تحت ہر شہری کا شنا ختی کار ڈ بیمہ کمپنی کے پا س رجسٹر ڈ ہے انصاف صحت کارڈ سینئر سٹیزن کارڈ وغیرہ کے لئے در در کی ٹھو کر یں کھا نے کی کوئی ضرورت نہیں شہری اپنا قومی شنا ختی کارڈ لیکر ہسپتال جا تا ہے شنا ختی کارڈ کی مدد سے بیمہ کمپنی میں اس کے پریمیم (Premimiom) کا نمبر نکل آتا ہے اور اس کے علا ج کا بل بیمہ کمپنی ادا کر تی ہے یہ وہی سسٹم ہے جو ناروے، سویڈن اور دوسری فلا حی ریا ستوں میں نا فذ ہے اب تک ہم نے اپنے قومی شنا ختی کارڈ کا ایک ہی فائدہ دیکھا تھا کہ پو لیس یا فو جی سپا ہی کو دکھا کر نا کے سے گذر جاؤ اس کا اور کوئی فائدہ ہمیں نظر نہیں آیا تھا اب ہسپتال میں شنا ختی کارڈ دکھا کر مفت علا ج کی سہو لت حا صل کر کے چند دنوں کے بعد ہسپتال سے گھر آکر اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہیں کہ علا ج مفت ہو گیا جیب سے ایک دھیلہ خرچ کرنا نہیں پڑا ملک کے شہریوں کی اکثریت ڈسٹرکٹ ہیڈ کوار ٹر ہسپتالوں میں علا ج کرنے کے لئے جا تی ہے اگر ایک ضلع چترال کی مثال لی جائے تو 5لا کھ کی آبا دی میں ہر سال 4لا کھ مریضوں کا اوپی ڈی میں علا ج ہوتا تھا ڈیڑھ لا کھ مریضوں کا داخلہ ہوتا تھا ایک لا کھ مریضوں کا اپریشن ہوتا تھا یہ اعداد و شمار چار سال پرانے ہیں 2020ء میں ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں صرف 5سپشلسٹ ڈاکٹر رہ گئے ہیں سی ٹی سکین، ایم آر آئی اور دیگر تشخیصی سہو لیات دستیاب نہیں ہیں آرتھو پیڈ کس، یورالو جی،کارڈیا لو جی اورپیتھا لو جی کی پو سٹیں نہیں ہیں امراض چشم کے سپشلسٹ کی پو سٹ 7سالوں سے خا لی ہے گائنی کی پو سٹ دو سالوں سے خالی ہے جنرل سر جری کی کی آ سامی ایک سال سے خا لی ہے 8اہم شعبوں میں سپشلسٹ نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کی بڑی تعداد ہسپتال سے ما یوس ہو کر واپس جا تی ہے صو بے کے دیگر اضلا ع میں بھی کم و بیش یہی صو رت حا ل ہے ہر شہری کو مفت علا ج کی سہو لت دینے کے انقلا بی فیصلے کے ساتھ اگر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوار ٹر ہسپتا لوں میں علا ج معا لجہ کی سہو لتیں بھی فراہم کی جاتیں تو شہر یوں کا بھلا ہو تا لیکن فلا حی ریا ست کا قیام اور فلا حی ریا ست میں ہر شہری کو سما جی تحفظ کی چھتری فراہم کرنا آسان کام نہیں اس میں وقت ضرور لگے گا وقت کا انتظار کیا جا سکتا ہے اس انقلا بی سکیم پر وہی پرانا گھسا پٹا سوا ل صا دق آتا ہے کہ مر غی پہلے یا انڈا؟ حکومت کی تر جیحا ت میں ہسپتال کی سہو لیات مقدم ہو نی چا ہئیں یا بیمہ کمپنی کے ذریعے مفت علا ج کا اعلا ن پہلے آنا چاہئیے تھا جواب یہ ہے کہ مفت علا ج کا اعلا ن ایک نئی سکیم کا اعلا ن ہے اس کو مقدم سمجھنا عین انصاف اور عقل سلیم کا تقا ضا ہے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوار ٹر ہسپتالوں میں علا ج معا لجہ کی سہو لیات پر تازہ ترین معلو مات کے ساتھ اعداد شمار حکومت کے اعلیٰ حکام کے علم میں جب لا ئے جائینگے تب ان پر توجہ دینے کی باری بھی آئیگی اُمید کی جا نی چاہئیے کہ عوام کو مفت علا ج کی سہو لت کا منصو بہ شروع کرنے کے بعد حکومت اپنے ہسپتا لوں میں سہو لیات کی فراہمی پر بھی توجہ دے گی۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



