کجا ہستی جان پدر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شمس الرحمن تاجک
کابل یونیورسٹی پر دہشت گرد حملہ جسے ہم چار دن یاد رکھنے اور فضول کا واویلا کرنے کے بعد اب ایسے بھول گئے ہیں جیسے ایسا کوئی وقوعہ کبھی ہوا نہیں۔جہاں یہ اجتماعی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے وہیں اس بات کی بھی غماز ہے کہ اس طرح کے واقعات اب ہمارے لئے کوئی خاص اہم نہیں رہے۔ یہ روز کا معمول بن گیا ہے کہ دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں کچھ نہ کچھ غیر انسانی کام تواتر کے ساتھ ہوتے رہتے ہیں۔ اور ہم ایک مذمتی بیان کے بعد شہر خاموشاں کی سی خاموشی اپنا لیتے ہیں۔ شہر خاموشان میں کم از کم جن بھوتوں کا ڈر تو رہتا ہے ہم زندوں کے معاشرے میں ایسی کسی خوف کا وجود اب ناپید ہوگیا ہے۔ ہم صرف تماش بین بن گئے ہیں۔ الفاظ، جملے، حالات، بے بسی یا پھر کچھ اور۔ ہم پر کچھ بھی اثر انداز ہونے والا نہیں۔ہمیں منٹو کا ”کھول دو“ کہنا زہرلگتا ہے مگر ”انکل“ کا ”کھول دینا“ دل و جان سے قبول ہے۔
یہی کچھ ہم نے کابل یونیورسٹی میں پڑھنے والی اس طالبہ کے ساتھ کردیا۔قریبا ایک صدی سے ہم نے منٹو کو زیر عتاب رکھا ہے۔ ہر کوشش کے بعد بھی بھول نہیں پا رہے ہیں کہ ایک شخص نے ”کھول دو“ کیوں بولا۔ کل ہی کی اس سے زیادہ سخت بات ہم بھول گئے جس میں ایک مجبور باپ بیٹی کے گھر نہ پہنچنے پر ”کجا ہستی جان پدر“ کہہ اٹھتا ہے۔ان دو جملوں کا تقابلی جائزہ کریں توہماری اصلیت واضح ہوجاتی ہے۔
”کھول دو“ ایک خیال ہے، افسانہ ہے، ڈرامہ ہے۔ مگر ہم اس افسانے پر گزشتہ ایک صدی سے جلاؤ گھیراؤ، قتل و غارت گری اور جائز و ناجائز فعل سرانجام دینے کے لئے تیار ہیں۔ ہم ثقافت کے نام پر، انسانیت کے اصولوں کو فالو کرتے ہوئے یا دین و ادیان کے حوالوں سے منٹو کو کئی بار واجب القتل ثابت کرچکے ہیں۔ اور یہ محنت اب جاری ہے۔ سوال یہاں صرف ایک ہی رہ جاتا ہے کیا ”کھول دو“ واقعی کوئی ناسور تھا۔ یا ہم میں سے ہر ایک کے نا تمام آرزوؤں کا پہلی بار ننگا اعتراف۔ یہ اعتراف ہی تو ہے کہ کئی نسلوں کے بعد بھی ہماری تربیت اسی نقطے پر مرتکز ہے۔ کہ منٹو کیوں بولا؟۔
دوسری طرف اس سے زیادہ سخت، زیادہ تکلیف دہ اور مکمل طور پر انسانیت والا جملہ۔ ”کجا ہستی جان پدر“۔ ہم اس کو باپ کی طرف سے اپنی بیٹی کے لئے ایک پیغام سمجھ کر بھول نہیں سکتے۔ اگریہ بھی ایک عام سا پیغام ہوگیا تو پھر ہم میں اور جانوروں میں کیا فرق رہ جائے گا۔اس پیغام کو کسی بھی اینگل سے دیکھیں یہ بہت ہی بھر پور، بہت ہی جامع اور مکمل پیغام ہے۔ اس میں انسانیت ہے۔ یہ محبت کی انتہا کا پیغام ہے۔ بھروسے اور مان کی لبریزی کاپیغام ہے۔ سلگتے ہوئے آنسوؤں بھری جذبات کا پیغام ہے۔اس میں احترام ہے، پیار ہے، محبت ہے۔ کسی کے ہونے کا بھرپور احساس ہے، کسی کو کھونے دینے کی تڑپ بھی ہے اس جملے میں۔آپ اس جملے کو دنیا کے کسی بھی زبان میں ترجمہ کریں۔ اور اس واقعے سے جوڑ دیں۔ تو جانوروں کی آنکھیں بھی آنسوؤں سے لبریز ہوں گے۔
میں اس سحرسے شاید اس لئے بھی نہیں نکل پا رہا کیونکہ کل کو اس طرح کا وقوعہ میرے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ میری بیٹی بھی اب انسانوں کے جنگل کا باسی ہے۔ کل کو وہ بھی ایسے اداروں تک پہنچ سکتی ہے جہاں علم دی جاتی ہے۔ ایسے اداروں پر نہ تو ادارے والوں کا کوئی اختیار ہوتا ہے اور نہ ہی والدین کا۔ ہم اس کی کیسے اجازت دے سکتے ہیں کہ ایک غیر متعلقہ انسان جس کا نہ تو میری اولاد کی تربیت سے، اس کے مستقبل سے، اس کی پرورش سے، یہاں تک کہ میری اولاد کے جینے اور مرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ میری بیٹی کے مستقبل کا فیصلہ کرے۔ وہ میری بیٹی کے جینے اور مرنے کا فیصلہ کرے۔ کیا لاچارگی ہے اور کیا بے بسی۔یہ بے بسی لمبے عرصے سے موجود ہے۔ صدیوں تک موجود رہنے کا امکان برقرار ہے۔ یہی سب سے تکلیف دہ پہلو ہے اس بے بسی کا۔
مگر اب ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ”کھول دو“ والا معاشرہ چاہتے ہیں یا پھر ”کجا ہستی جان پدر“ کے رویوں کو فروغ دینے والے معاشرے کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔چار سال کی بچی اگر ایک انکل کے زیر سایہ اپنے آپ کومحفوظ تصور نہیں کرپا رہی ہے تو یہ کم ازکم انسانوں کا معاشرہ نہیں ہوسکتا۔رہی بات اٹھارہ سال کے یونیورسٹی کی طالبہ کا۔وہ بھی اتنی ہی مظلوم ہے۔ وہ بھی ہمارے معاشرے کے چہرے پر ہماری تربیت کا ایک طمانچہ ہے۔ چار سال کی بچی کی پلنگ کے پائچے سے لٹکتی ہوئی شلوار اور اٹھارہ سال کی بچی کی کھڑکی سے لٹکتی ہوئی لاش دونوں ہمارے اس ضمیر کی طرف اشارہ کررہے ہیں جو مرچکا ہے۔اور ہم اپنے اس بے ضمیر و مردہ معاشرے کے ساتھ خوش ہیں۔ اس سے بڑھ کر المیہ کچھ اور ہوسکتا ہے؟۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



