اخبارات میں اس قسم کی خبریں تو اتر سے آرہی ہیں کہ حکومت کے پاس فاضل آمدنی جمع ہو گئی ہے اس کے باو جود ملکی معیشت میں بہتری کے آثار نظر نہیں آتے پشاور ہائی کورٹ نے بھی اس کو تشویشناک قرار دیا ہے وفاقی حکومت اس پر غور کر رہی ہے کہ فاضل آمدنی آنے کے باو جو دملکی معیشت کیوں بہتر نہیں ہو رہی؟ معا شی ما ہرین زمانہ قدیم میں بھی اور ما ضی قریب میں بھی ایک معمولی اصول کا ذکر کیا کرتے تھے شعیب احمد اور غلام فاروق سے لیکر ڈاکٹر محبوب الحق اور اسحاق ڈار تک سب کا یہی کہنا تھا کہ ”سر مایے کی گر دش“ سے معیشت میں بہتری آتی ہے سر مایہ ایک جگہ جمع ہو کر دا تیں با تیں تقسیم نہ ہو تو معیشت بہتر نہیں ہو تی فا ضل امدنی کے حوالے سے جو خبر یں اخبارات کی زینت بنی ہیں یہ پٹرو لیم مصنو عات، سٹیل ملز، واپڈا یا پاسکو سے حا صل ہونے والی فاضل آمدن نہیں ہے 2018-19کے بجٹ میں پبلک سیکٹر ڈیو لپمنٹ پرو گرام (GSDP) کے تحت NFCایوارڈ کی رو سے صو بوں کو جو سر مایہ فراہم کیا گیا تھا۔صو بوں نے ما لی سال کی پہلی ششما ہی میں اس میں سے 600ارب روپے کی بچت کر کے وفاق کو واپس کر دیا ہے یہ فا ضل آمدنی ہے غریب صو بہ بلو چستان نے بھی 75ارب روپے سرنڈر کر دیئے خیبر پختونخوا نے 90ارب روپے سرنڈر کردیئے وفاقی حکومت امیر ہو گئی مگر معیشت پر اس کا کیا اثر ہوا؟ صر ف دو مثا لیں کا فی ہیں گذشتہ ششما ہی کے دوران کا روں کی فروخت میں 40فیصد کمی آئیگی دو بڑی کمپنیوں نے اپنے پلانٹ بند کردیئے مزدوروں اور کاریگر وں کو فارغ کر کے گھر بھیجدیا ٹریکٹروں کی ما نگ میں 50فیصد کمی دیکھنے میں آئی سب سے بڑی فرم ملیسی فر گوسن اپنی فیکٹری کو تا لا لگا کر مزدوروں اور کا ریگروں کو بے روز گار کر دیا اس خبر کا فا ضل آمدنی سے گہرا تعلق ہے جب ملک میں پبلک سیکڑ ڈیو لپمنٹ پرو گرام کے تحت 10کھرب روپے خرچ ہوتے ہیں ان میں سے کم از کم 4کھرب روپے ملکی پیدا وار کے کار خانوں کو ملتے ہیں یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں بلکہ سادہ فار مو لا ہے اگر 5کروڑ روپے تر قیا تی سکیم پر خرچ ہو تا ہے تو اس رقم کا 60فیصد مختلف مدات (heads) کے تحت لو گوں کے پا س آتا ہے کوئی ٹھیکہ لیتا ہے کوئی مزدوری کر تا ہے یہ رقم ڈرائیور اور ہو ٹل والے کو بھی ملتی ہے بینک میں بھی آتی ہے زندگی کے ہر شعبے کے لوگ اس رقم سے استفادہ کرتے ہیں اس رقم کا 40فیصد تعمیرانی میٹریل پر لگتا ہے براہ راست کا رخا نوں اور ٹرانسپورٹروں کے اکا ونٹ میں جا تا ہے جو پیسہ عوام کو ملتا ہے وہ ان کو قوت خرید میں اضافہ کر تا ہے وہ ٹریکٹر بھی خرید سکتے ہیں موٹر بھی خرید سکتے ہیں یہ سر مایہ ملک میں گرد ش کر کے معیشت کو مضبوط کر تا ہے معیشت کی بہتری کا راز صرف سر مایے کی گردش میں مضمر ہے غلام اسحاق خان جب سٹیٹ بینک کے گور نر تھے وہ ایک مثال دیا کرتے تھے ایک بھکا ری جھولی پھیلا کر بازار میں گھومتا ہے اگر 100بندے ایک ایک روپیہ اس کی جھولی میں ڈالیں تو بھکاری کے پاس 100روپے آجائینگے شام کوبھکاری بال بچوں کے لئے کھانے پینے کی ضروری چیزیں خرید ے گا تو 100روپے کی یہ رقم کم از کم 10تاجر وں کے پا س جائیگی اس طرح معمولی سرمایے کا فائدہ سب کو پہنچتا ہے اس لئے قرآن پا ک کا معاشی اصول بھی یہی ہے کہ دولت کو ایک جگہ ٹھہرا کر مت رکھو اس کو تقسیم کرو، گردش میں ڈالو تو معیشت میں بہتری آئے گی یہ بات خوش آئیندہے کہ حکومت کے پاس فاضل آمدنی آگئی ہے اگر اس کو اگلی ششما ہی میں تر قیاتی سکیموں پر لگا یا گیا تو معیشت میں ضرور بہتری آئیگی
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



