وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمودخان کے دوراہ چترال سے چاردن قبل ائرپورٹ روڈکی مرمت کے سلسلے میں ایک احتجاجی جلسہ بھی کیاتھااوراس کوسوشل میڈیامیں بھی شیئرکیاگیاتھااس وجہ سے مجھے یقین تھاکہ وزیراعلیٰ کم ازکم چترال میں سڑکوں کی مدمیں کوئی فنڈریلیزکریں جبکہ ڈی سی چترال نے اپنے بریفنگ میں بتایاتھاکہ تمام سٹرکوں کی پی سی ون بنایاگیاوہ وزیراعلیٰ کے pprovpکی ضرورت تھی اس کام کے لئے ڈی سی چترال کاشکریہ اداکرتاہوں۔
میں نے پروالی ٹوپی کوایک منفرداحتجاج کے طورپرجلایا۔اس وقت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامحمودخان چترال کادورہ کررہے تھے۔میرااحتجاج انتہائی موثررہاکیونکہ آجکل سوشل میڈیامیں نوے فیصدلوگ ٹوپی جلانے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔اوربعض میرے اس فعل کی مذمت بھی کرتے ہیں۔لیکن میراانوکھااحتجاج انتہائی کامیاب رہا۔اس کامقصدبھی یہ تھاکہ لوگ کم ازکم پوچھیں گے کہ یہ کیوں ہوا۔یہ بات پاکستا ن اورپاکستان سے باہرہرملک کے کونے کونے تک پہنچ گیااوریہ ارباب اختیارتک بھی پہنچ چکاہوگا۔میرے اس ویڈیوکودیکھنے سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ وہ اپنی ذاتی مقصدکے لئے یہ کام بن کیاہے۔پاکستان کے خزانے میں بوات کوجنت نظیرشہراورموٹروے وشنی وغیرہ کے لئے پیسے موجوہیں۔جبکہ چترال کے خستہ حال روڈوں کے لئے ایک روپیہ بھی نہیں دیاگیا۔چترالی ٹوپی کوجلاناکسی چترالی کی دل آزاری تونہیں تھی۔بلکہ ایک منفرداحتجاج کرناتھا۔جوکہ کامیاب ہوگیا۔ارندوشیشی کوہ،بمبوریت،گرم چشمہ،بونی مستوج،تورکہواورموڑکہوکے روڑوں کی تعمیرتھی۔جب وزیراعلیٰ صاحب مایوس ہواتومیں نے یہ کہتے ہوئے چترالی ٹوپی کوجلادیاکہ جوشخص چترالی ٹوپی پہنانے کے اہل اوران کی عزت کوپہچانے کااہل نہ ہوتوان کوثقافتی ٹوپی پہنانے کے بجائے اُنکو جلادیاجائے۔اب ہم ایک ٹوپی کوجلانے پرمتحدہوگئے ہیں۔اسی طرح چترال کی ترقی مثلاً ارندوشیشی کوہ،بمبوریت،لٹکوہ،بونی مستوج،تورکھواورموڑکہوکے روڈوں کے لئے متحدکیوں نہیں ہوئے۔ہم چترالی ٹوپی کے بہانے متحدتوہیں۔لیکن چترال میں ترقیاتی کاموں کے لئے متحدکیوں نہیں ہیں۔بس ایک وکیل ہوں میں زندگی میں ایک کونسلربننے کابھی خوہش مندنہیں ہوں۔اورنہ آئندہ کسی بھی الیکشن میں آپ کے سامنے آجاونگا۔میں قوم کی خدمت کے لئے ہرحدتک جاونگا۔چاہیے میری جان بھی چلی جائے۔میں اُن لوگوں کوسلام پیش کرتاہوں جوحدودکے اندررہتے ہوئے مجھ پرتنقیدکی ہے۔تنقیدتعمیری ہوناچاہیے۔تعمیری تنقیدکریں قدرکی نگاہ سے دیکھتاہوں،اوریہ بھی میں عرض کروں کہ اپنے بچوں کی شادی کراتے وقت بھی چترالی ثقافت کاخیال رکھیں۔جوحال ہی میں آپ کے سامنے ہوچکے ہیں اس وقت جب ہم ثقافت کی بات کررہے تھے تویہ لوگ ہمیں گالیاں دے رہے تھے کہ ثقافت کے نام پرچترال کی ترقی میں روڑے اٹکارہے ہیں۔میں مطمئن ہوں اورمیراانوکھااحتجاج سوشل میڈیاکازئنت بنااورآئندہ آنے والے لوگ جن کوہم ٹوپی پہنائیں گے محتاط رہیں گے۔اس کے علاوہ بازارمیں مرغیوں کے جوپرتین سوروپے میں فروخت کرکے چترالی ثقافت کانام لیتے ہیں وہ کبھی چترال کاثقافت نہیں رہا۔میں نے اپنے ویڈیومیں باربارپروالی ٹوپی کاذکرتارہاہوں۔اس کامقصدیہ تھاکہ چترالی ثقافتی ٹوپی سواتی پٹی سے نہیں بنتااورپرہم ٹوپی میں لگاتے تھے اُن میں سے تاتاڑیوجورونی اورمنڈاغ کاچوڑ ہے نہ کہ مرغی کاپر۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


