اسلامی سال 1440ھ کے لئے حج پا لیسی کا اعلان کر کے حکومت نے سر کاری سکیم کے تحت حج کے اخراجا ت میں ایک لا کھ 56ہزار روپے کا اضا فہ کیا ہے سر کاری سکیم کو 60فیصد اور نجی سکیم کو 40فیصد کو ٹہ دیا گیا ہے دونوں سکیموں کو ملا کر ایک لا کھ 84ہزار عازمین حج اس سال حج کی سعادت حا صل کرینگے پرائیویٹ کمپنیوں کے اخراجات کا موازنہ اگر سرکاری سکیم سے کیا جائے تو کم سے کم 2لاکھ روپے اور زیا دہ سے زیا دہ 5لاکھ روپے اضا فی پیسے لگتے ہیں لوگ اپنی استطاعت، سہو لت اور دورانیہ کے حساب سے کسی بھی پرائیویٹ کمپنی کا انتخاب کرتے ہیں 1439ھ میں سرکا ری سکیم کا خر چہ دو لا کھ 85ہزار روپے تھا پرائیویٹ سکیم کا کم سے کم خر چہ 5لاکھ روپے اور زیا دہ سے زیادہ خرچہ 9لاکھ روپے تھا جسٹس ڈیم کی عدالت سے حکم امتنا عی کے ذریعے سرکاری سکیم میں کمی کر کے 50فیصد پرائیویٹ کو دیدیا تھا اور اس عمل میں 5مہینے لو گوں کو لٹکائے رکھا گیا حج اخراجات میں اضافے کے حوالے سے اپو زیشن نے حکومت پر اعتراض کیا ہے حکومت کہتی ہے کہ تما م چیزوں پر سبسڈی ختم کر کے حج پر بھی سبسڈی ختم کی گئی اس میں امتیا زی سلوک کا الزام غلط ہے حکمران جماعت کے وزراء اور اراکین اسمبلی کہتے ہیں کہ حج ضرورت نہیں عیا شی ہے صرف ان لو گوں کو جا نا چاہئیے جن کے پا س دولت ہو جو لوگ دولت مند نہ ہوں ان کو حکومت سے امداد یا سبسڈی لیکر حج پر جا نے کی کیا ضرورت ہے؟ حج کا معاملہ نماز اور روزے جیسا نہیں یہ ایسی عبادت ہے جو ہر مسلمان پر فرض نہیں صرف دولت مندوں اور امیروں پر فرض ہے اور عیا شی کے زمرے میں آتاہے فقہی اعتبار سے یہ استدلال درست ہے تاہم فقہی موشگافی کو حرف آخر کا درجہ نہیں دیا جا سکتا مذہب ایک جذباتی، نفسیا تی اور سما جی معاملہ بھی ہے مذہب میں صرف قانون، اصول اورفقہی مبا حث ہی کو مدنظر نہیں رکھا جاتا سما جی، جذ باتی اور نفسیا تی عوامل کو بھی پیش نظر رکھا جا تاہے ہر سال دنیا بھر سے آئے ہوئے حا جیوں اور حجنوں میں نصف تعداد ایسے مرد اور خواتین کی ہو تی ہے جنہوں نے پوری زندگی حج کے لئے پیسہ پیسہ جوڑ کر رکھا اور وقت آنے پر حج کی سعادت حا صل کی حا لانکہ معا شرتی اور سیا سی یا معاشی اعتبار سے اُن کا شمار دولت مند لو گوں میں نہیں ہو تا بھٹو شہید کو لوگ آج بھی یا د کر تے ہیں تو اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سعودی حکمرانوں کے ساتھ اپنے تعلقات اور بہتر سفارت کا ری کے ذریعے انہوں نے پا کستانیوں کے لئے حج کی سعادت حا صل کرنے میں آسانیاں پید اکیں حا جیوں کی تعداد میں اضا فہ کے ساتھ خصو صی مراعات دے کر حا جیوں کی سہولیات میں بھی اضا فہ کیا بھٹو شہید جانتے تھے کہ بے شمار پاکستانی حج کا ارمان لیکر مو ت کی آغوش میں چلے جا تے ہیں ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ ہزاروں مائیں بہنیں اس لئے حج نہیں کر سکتیں کہ اُن کے پاس محرم کو ساتھ لیجا نے کے لئے اخراجا ت کی گنجا ئش نہیں ہوتی اس وقت انڈو نیشیا، بنگلہ دیش اور بھا رت کی حج پا لیسی بھی ان خطوط پر استوار ہے کہ زیادہ سے زیا دہ تعداد میں کم آمد نی والے عازمین حج کو مواقع دیئے جا ئیں تاکہ ان کی عمر بھر کی اُمید، آرزو اورتمنّا پو ری ہو جا ئے حج کا یہ نفسیاتی پہلو ایسا ہے جس کو فقہی مسائل، جواز، عدم جواز یا سقوطِ فرض کے ترازو میں نہیں تو لا جا سکتا یہ ماں اور بچے کے باہمی تعلق جیسا مسئلہ ہے فقہی اعتبار سے بچے کی نسبت باپ کی طرف ہوتی ہے ماں بچے کو دوھ پلانے، پالنے، پوسنے کا پابند نہیں اگر بچے کا باپ چاہتا ہے کہ اس کی بیوی بچے کو دودھ پلائے اور پال پوس کر پرورش کرے تو وہ فقہی اعتبار سے اپنی بیوی کو معاوضہ دینے کا الگ معا ہدہ کرے گا یہ کام نکا ح کے معا ہدے میں شامل نہیں ہے اس فقہی مسئلے کو آپ اگر ماں اور بچے کے جذباتی، نفسیاتی اور سماجی رشتے کے ساتھ مو ازنہ کر کے دیکھینگے تو حج کے مسائل بھی سمجھ میں آ جائینگے ماں بچے کو ایک خا موش رضا مندی اور غیر تحریری معاہدے کے تحت دودھ بھی پلا تی ہے اس کی پرورش بھی کر تی ہے جواب میں بچے کا باپ اس کے نا ن نفقہ کی ذمہ داری لے لیتا ہے قاضی اگر معاہدے کی نقل مانگے تو کوئی معا ہدہ نہیں ہو تا یہی حا ل حج کا ہے حدود ِ حرم میں داخل ہونے کے بعد حا جی اپنے آپ کو ماں کی نظروں کے سامنے پاتا ہے اور جب حا جی بیت اللہ شریف کے گرد طواف کر تا ہے تواپنی آپ کو ماں کی آغوشِ محبت میں جا تا ہوا محسوس کر تا ہے اس جذبے، اس احساس اور اس نفسیاتی کیفیت کی کوئی کا غذی نقل نہیں ہو تی کوئی آڈیو یا ویڈیو دستا ویز نہیں ہو تی یہ قلبی کیفیات ہو تی ہیں ایک شخص شہر کے با زاروں میں پھر کر دکا نوں میں دھونی دیتا ہے اور گزشتہ 20سالوں سے یہ کا م کر تا ہے حج کے اخراجا ت میں ڈیڑ ھ لاکھ اضافہ کی خبر آئی تو وہ زار و قطار دھا ڑیں مار کر رونے لگا اُس نے حج کے داخلے کے لئے 3لاکھ روپے پورے کئے تھے اب وہ 4لاکھ 36ہزار روپے کہاں سے لائے گا؟ دیہات اور شہروں میں ایسی مائیں بہنیں بیھٹی ہوئی ہیں جنہوں نے مشکل سے اس سال 3لاکھ روپے جمع کر کے محرم کا بھی اانتظام کیا ہوا تھا یکدم ایک لاکھ 56ہزار کا اضا فی بو جھ آنے کے بعد نہ خود جا سکتی ہیں نہ محرم جا سکتا ہے حکومت کے جو مشیر اور وزرائے کرام حج کو عیا شی کا درجہ دے رہے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ حج پر صرف ما لداروں کی اجا رہ داری ہونی چا ہئیے اُن سے درخواست ہے کہ انڈو نیشیا، بنگلہ دیش اور بھا رت کی حج پا لیسی کا مطا لعہ کریں ان مما لک سے بہتر پا لیسی نہیں دے سکتے نہ دیں مگر اپنی پا لیسی کو امریکہ، بر طا نیہ اور جرمنی سے بھی بد تر کرنے کی کو ششیں کر کے منفی پالیسی کے دفاع میں غیر ذمہ درانہ بیا نات دینے سے گریز کریں
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



