سولہ دسمبر ۔۔ پاکستان کی تاریخ کا اہم دن ۔ ( اداریہ چترال میل ڈاٹ کام )

Print Friendly, PDF & Email

سولہ دسمبر 2014 پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،جب دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پرحملہ کر کے معصوم بچوں کا خون بہایا اور سفاکیت کی انتہا کر دی،دہشت گردوں کے اس حملے میں اساتذہ اور بچوں سمیت 150 افراد شہید ہوئے تھے، گو پاک فوج کے جوانوں نے تمام دہشت گردوں کو مار دیا تھا لیکن جو معصوم بچوں کی جانیں گئیں وہ واپس نہیں آ سکتیں اور نہ ہی شہید بچوں کے لواحقین کے غم کو کم کیا جا سکتا ہے۔

آج سے 44 سال پہلے 16 دسمبر 1971 کوبھی ملکی تاریخ کا اہم ترین دن تھا، جب پاکستان کا ایک بازو کٹ کر علیحدہ ملک بن گیا تھا، نہ صرف یہ بلکہ 92 ہزارپاکستانی فوجی بھی دشمن کی قید میں چلے گئے تھے اور ازلی دشمن بھارت اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو گیا تھا۔

16 دسمبر 2014 کو معصوم بچوں پر حملہ کرنے والوں نے سقوط ڈھاکہ کا دن ہی کیوں چنا؟ دشمن نے یاد دلانے کی کوشش کی کہ ہم وہی ہیں جنہوں نے 16 دسمبر 1971 کو پاکستان کا ایک بازو کاٹ دیا تھا، یعنی اے پی ایس پر حملہ کرنے والوں کا تعلق بھی بھارت سے ہے یا وہ بھارت کے پے رول پر تھے۔

آج اے پی ایس پر حملے میں شہید بچوں کا دن منایا جا رہا ہے، ہمیں منانا بھی چاہیے لیکن ہمیں اپنے دشمن کو نہیں بھولنا چاہیے، دشمن بغل میں چھری لیکر گھوم رہا ہے اور کبھی بھی پلٹ کر وار کر سکتا ہے، دشمن کی چالوں پر نظر رکھنی ہو گی، دشمن نے اپنے کارندے پاکستان میں پھیلا رکھے ہیں جو پاکستان کے کئی علاقوں میں تخریب کاری کر چکے ہیں۔

16 سولہ دسمبر 1971 کوبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، پاکستان کے قیام کے 24 سال بعد ملک کا بڑاحصہ علیحدہ ہو کرنیا ملک بن جائے تو یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہوتی، نہ ہی ایسے سانحے ایک دن میں رونما ہوتے ہیں، دشمن تو قیام پاکستان کے پہلے دن سے ہی دنیا کے نقشے سے پاکستان کو مٹانے کی تاک میں تھا، ایک حصہ کاٹنے میں کامیاب ہو گیا، وہ تو خدا کا شکر ہے کہ پاکستان ایٹمی قوت بن گیا نہیں تو ابھی تک دشمن کتنے وار کر چکا ہوتا، پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے بعد دشمن کی ہمت نہیں کہ وہ کھلم کھلا پاکستان کو چلینج کر سکے، یہی وجہ ہے کہ اب وہ بزدلانہ اقدام کر رہا ہے اور معصوم بچوں پر حملے کروا رہا ہے.

دشمن کی چالوں اور سانحہ پشاور، سقوط ڈھاکہ جیسے کسی دوسرے سانحے سے بچنے کے لیے از حد ضروری ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت مل کر دشمن کی ہر حرکت پر نظر رکھیں، آپس میں الجھنے کے بجائے اتحاد و اتفاق سے دشمن کی چالوں کو ناکام بنائیں، جب سیاسی اور عسکری قیادت میں اتفاق ہو گا پاکستانی عوام ان کا بھرپور دیں گے اور کوئی بھی پاکستان کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکے گا۔

آج ہر جگہ آرمی پبلک اسکول میں معصوم بچوں کی شہادت کی یاد میں تقاریب تو ہو رہی ہیں لیکن صرف تقاریب سے کچھ نہیں ہو گا، ایسے اقدامات کرنے ہوں گے کہ نہ تو اے پی ایس جیسے حملے ہو سکیں اور نہ 16 دسمبر 1971 جیسا درد ناک دن پاکستانیوں کو دیکھنا پڑے، دعا ہے پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے اور شان و شوکت کے ساتھ دشمن پر اپنی دھاک بٹھائے رکھے، پاکستان زندہ باد