جس ملک کی عوام کا بڑا مسئلہ مہنگائی ہو تو لازم ہے کہ وہ ملک غریب ہے وہاں کے باشندوں کا بڑا مسئلہ خوراک، پوشاک، جائے پناہ اور صحت ہے۔آگے اور تقاضے ہیں تب اس ملک کے بڑوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ ایک ایسے ملک کے بڑے ہیں جہاں پر زندگی ایک عذاب،ایک جدوجہد اور ایک جنگ کا نام ہے۔۔ان بڑوں کو نیند نہیں آنی چاہیے۔وہ سکوں سے نہ سوئیں۔ان کو پر تعیش کھانوں میں مزہ نہ آئے۔آرام دہ گاڑیوں میں بیٹھ کر یوں لگے کہ کانٹوں کی سیچ پہ ہیں۔تنخواہ لیتے ہوئے لرزہ بر اندام ہوجائیں۔اپنے بچوں کے لئے شاپنگ کرتے ہوئے غریبوں کے بچے ان کی نظروں کے سامنے گھومیں پھریں۔بڑوں پہ نظر رکھیں۔کہ وہ خیانت تو نہیں کرتے ٹیکس چوری تو نہیں کرتے ناجائز طریقے سے دولت تو نہیں کماتے۔غیر قانونی جائیدادیں تو نہیں بناتے۔اگر ایسا ہے تو ضرور اس قوم کا بڑا مسئلہ روٹی،کپڑا اور مکان ہوگا۔۔اس کا خواب پیٹ بھر کے کھانا ہوگا۔اس کے لئے قابل تبصیرہ مسئلہ روٹی کی قیمت ہوگی۔اس حالت اضطراری میں کشادہ سڑکیں،جدید ترین ٹریفک سروسس،چمکتے شاپنگ سنٹرز،محل نما دفاتر،سیر گاہیں،سب کچھ کوئی معنی نہیں رکھتے۔قوم دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ایک طرف عیاشیاں ہونگیں دوسری طرف تڑپتی انسانیت ہو گی۔ہاتھ پھیلیں گے سر جھکیں گے۔غیرت کا سودا ہوگا۔ڈیل کرنا پڑے گا۔حکم ماننا پڑے گا۔۔قومی غیرت و حمیت میں فرق آئے گا۔پاکستان کے ابتدائی ایام میں ہم غریب تھے مگر ہم میں قناعت تھی۔۔تاریخ گواہ ہے ہم قرض دیتے تھے۔۔ہم سر جھکاتے نہیں تھے ہمیں پیش کشیں ہوتی تھیں۔ہم میں عیاشیاں نہیں تھیں۔۔ہمارے حکمران اپنی ذاتی املاک قومی خزانے میں دے دیتے تھے۔۔ہم میں ایمانداری،دیانت داری،خلوص،ایثار و قربانی،جذبہ تعمیر،عدل،سچائی اور ملک و قوم سے وفا کی صلاحیتیں موجود تھیں۔ہم میں صبرو شکر تھا۔قومی خزانہ ہماری امانت تھی۔۔وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ہم وہ صلاحیتیں گنواتے رہے۔۔ حکمران ایک دوسرے کو الزام دیتے رہے۔۔قومی خزانے کو لوٹنے کا الزام دیتے رہے۔۔”خزانہ خالی“ کی راگ الاپتے رہے۔وزرائے اعظم ”پچھلے دور“کہتے رہے۔۔لیکن پچھلے دوراگر اس کا اپنا بھی ہو۔۔اب سوال ہمیشہ یہ پیدا ہوتا رہا کہ ہمارے بڑے دور کی کیوں نہیں سوجھتے رے کہ ایسا کرنے سے ائیندہ ایسا ہوگا۔۔بات اچھنبے کی ہے کہ کیا قوم کا لیڈر دوراندیش نہیں ہوتا۔۔قوم کچھ دیر کچھ دن کچھ مہینے مصیبت برداشت کر سکتی ہے پھر اچھے دن آتے ہیں۔۔لیکن مستقبل کی کوئی منصوبہ بندی نہ ہو تو اچھے دن کیسے آسکتے ہیں۔۔ہم نے بجلی کی پیداوار اور بڑھتی ہوئی آبادی کااندازہ نہیں کیا تو بحران پیدا ہوا۔۔ہم نے زرعی پیداوار پر توجہ نہیں دی تو غلہ در آمد کرنا پڑا۔ہم نے ٹیکس کے نظام کو مضبوط نہیں کیا تو قرض لینا پڑا۔ہم خود احتسابی کی جگہ خود عرضی میں مبتلا ہوگئے تو کرپشن کی لعنت میں گرفتار ہوگئے۔تب ہماری زندگی گزارنے کا معیار روٹی کپڑا مکان ہے۔۔مہنگائی ہی ہمارا بڑا مسئلہ ہے۔ملک قرضوں پہ چلتا ہے۔ہم نے کشکول توڑنے دعوے پہلے بھی بہت سنتے آئے ہیں لیکن موجودہ حکومت کے دعوؤں میں معیار نظر آتا ہے۔۔قرض رسوائی ہے۔اگر قربانی دینے سے قرض کی مصیبت سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے تو ہم ہر کوئی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔۔ہم حکومت کو سلام پیش کرتے ہیں۔آو کہ غیرت سے زندگی گزارنا سیکھیں۔ہم اپنے اخراجات کم کریں۔۔ہمارے بڑے بھی کم کریں۔۔ان کے ہاں بھی ایک ہی ڈش پکے۔ان کی گاڑیاں بھی سیدھی سادی ہوں۔ان کی شاپنگ بھی ہم جیسے ہوں ان کے ہاں بھی شادی غریبوں جیسی ہوں۔ان کے ہاں بھی جہیز نہ ہوں۔وہ بھی عید کے لئے کپڑے نہ بنائیں۔جس کو رب نے دولت سے نوازا ہے ہم ان سے حسد نہیں کرتے البتہ غریبوں کا خون اور ناجائز کمائی کے خلاف ہیں۔۔اگر ایک وزیر اعظم کو عزم مصمم ہے کہ کشکول توڑینگے تو ہمارے لئے اعزاز ہے۔جاپان پراٹم بم گرایا گیا تو قوم نے فیصلہ کیا کہ ہم دوپہر کا کھانا نہیں کھائیں گے۔بیس سال تک نہیں کھائے ایسا نہیں کہ غریبوں نے نہیں کھائے امیروں کے ہاں ہفت خوان چلتا رہا بلکہ سب نے نہیں کھائے۔زندہ قوموں کا ارادہ اور وعدہ اس طرح ہوتا ہے وہ کرکے دیکھاتے ہیں۔ہم میں ایک دوسرے کو قبول کرنے کا فقدان ہے۔مہنگائی امیروں کا مسئلہ نہیں غریبوں کا مسئلہ ہے۔۔لیکن ٹیکسیشن کو باقاعدہ کرنا امیروں کا مسئلہ ہے جہان غریب قربانی دینے کے لئے تیار ہیں وہاں امیر کیوں تیار نہیں۔ یہ ملک سب کا ہے۔۔غریبوں سے زیادہ امیروں کا ہے۔وزیر اعظم پاکستان کا ایک جملہ دل کو بھا گیا کہ ”میں اس بحران سے آپ کو نکالوں گا“۔۔یہ کومٹمنٹ ہے بلکہ وزیر اعظم کو یوں کہنا چاہیے کہ ”ہم انشا اللہ اس بحران سے نکلیں گے“ ہم انشا اللہ نکلیں گے۔اگر آج مہنگائی ہمارا مسئلہ ہے تو کل ہم مہنگائی سے نکل کر دنیا کی اقوام میں اپنا مقام بنانے کو اپنے لئے مسئلہ سمجھیں گے۔دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے کون کون اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



