صدیوں پہلے کے ایک دربار کا ذگر کرتے ہیں دربار میں ایک پیغام رساں پیش ہونے کی اجازت چاہتے ہیں۔ پیغام ایک خاتون کی طرف سے اس زمانے کے مسلمان حکمران حجاج بن یوسف کے نام پر ہے۔ سالوں کی مسافت پر واقع دیبل کے مقام پر کسی مسافر نے ایک خاتون کو فریاد کرتے ہوئے سنا تھا کہ ان پر ہونے والی ظلم کا مسلمان ہونے کی حیثیت سے بدلہ لیا جائے۔ ان کا پیغام سنا جاتا ہے فوج کو تیاری اور حملے کا حکم دیا جاتا ہے، سالوں کا سفر پا پیادہ یا گھوڑوں پر طے کیا جاتا ہے، دیبل فتح کیا جاتا ہے۔ مظلوم کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے۔ اس سارے منظر نامے میں جو سب سے اہم بات ہے وہ بھروسہ ہے۔ فریاد کرنے والی خاتون کو مکمل بھروسہ تھا کہ حجاج بن یوسف ان کی فریاد ضرور سنیں گے۔ اور حجاج بن یوسف نے بھی فریادی کے بھروسے کو نہیں تھوڑا۔ بلکہ ظلم سے نجات دلا کر اس بھروسے کو مزید تقویت دی۔
صدیوں بعد چترال میں ایک واقعہ پیش آتا ہے۔ واقعے کے مظلوم خواتین پولیس کو پکارتی ہیں۔ دو سال تک پولیس خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی ہے۔ دو سال بعد واقعے کی مووی کلپ عام عوام تک پہنچتی ہے، سوشل میڈیا کا جن بے قابو ہوجاتا ہے۔ پولیس روایتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے موقف پیش کرتی ہے کہ یہ کلپ دو سال پرانی ہے۔ اگر دو سال پہلے آپ کو پتہ تھا تو آپ کو مبینہ ملزم کو عبرت کا نشان بنا کر مظلوم کیلاش لڑکیوں کو انصاف دلانا چاہئے تھا۔ جب سوشل میڈیا نے چیخنا شروع کیا تو آپ کو یاد آیا کہ اپنے آپ کو پولیس والا کہہ کر لڑکیوں کے ساتھ ظلم کرنے والے شخص کو ڈھونڈنا چاہئے۔ کم از کم چترال پولیس جیسے نیک نام ادارے کی عزت کا تو خیال رکھا جاتا۔ پولیس کا نام لے کر پورے ڈیپارٹمنٹ کو بدنام کرنے والے شخص کو قرار واقعی سزا تو دی جاتی۔اگر دو سال پہلے پولیس کو پتہ تھا کہ اتنی زبردست قسم کی ہراسمنٹ ہوئی ہے اور وہ بھی چترال جیسے پرامن علاقے کے معصوم بچیوں کے ساتھ۔ تو اب تک پولیس کا کردار کیا رہا ہے۔ اگر دو سال تک پولیس اس شخص تک نہیں پہنچ پایا کیا اگلے کئی صدیوں تک اس شخص کا پتہ چلا سکتی ہے۔ حالانکہ عام آدمی کو اس شخص کے فیس بک اکاؤنٹ تک ازبر ہیں۔ کیا پولیس کی خاموشی آئندہ کے لئے ایسے عناصر کو شہہ دینے کا موجب نہیں بنے گا۔
یہاں سب سے اہم بات پاکستان بھر سے آنے والے سیاحوں کو پتہ نہیں کیوں اس بات کا یقین ہے کہ کیلاش لوگ مغربی دنیا سے بھی زیادہ مدرپدر آزاد لوگ ہیں۔ وہ کوئی تہذیب، خاندانی نظام، مذہب اور گناہ و ثواب کا تصور نہیں رکھتے۔ حالانکہ کیلاش قبائل دنیا کے سب سے مہذب لوگ ہیں۔ سب سے زیادہ مظبوط خاندانی نظام رکھتے ہیں۔ ان کے مذہب میں بھی اچھائی کو اچھا اور برائی کو برا ہی سمجھا جاتا ہے۔ اور گناہ پر سزا، اچھے اعمال پر جزا کا نظام دنیا کے تمام مذاہب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ چترال کے کیلاش بیٹیوں کے بارے میں ایسی رائے قائم کروانے میں ہم چترال کے لوگوں کا کردار رہا ہے ہم نے ان کے مظبوط کردار، مذہب، بہترین خاندانی اور معاشرتی نظام کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ وجہ اس کی صرف ایک ہے کہ وہ اقلیت میں ہیں۔ بیرونی دنیا ہماری ان معصوم اور پیاری بیٹیوں کے ساتھ ہمارے گھر کے برآمدے میں کھڑے ہو کر بدتمیزی کرتی ہے اور ہم تماشا دیکھتے ہیں۔اس سے بڑھ کر بے غیرتی کیا ہوگی۔
مگر پھر اس ظلم کی انتہا والی مووی کلپ میں ایک بے انتہا مان اور بھروسے کا ذگر ہے۔ کسی کیلاش لڑکی نے یہ نہیں کہا کہ وہ اپنے ماں باپ یا بہن بھائی کو بلائے گی بلکہ ماں باپ سے بھی بڑھ کر ان لڑکیوں نے پولیس کو بلانے کا اوراپنی حفاظت کرنے کا کہا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کیلاش لڑکیوں کو اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے بھی زیادہ چترال پولیس پر بھروسہ ہے۔ وہ دل سے سمجھتے ہیں کہ چترال پولیس ان کی حفاظت کے لئے موجود ہے ان کا یہ بھروسہ چترال پولیس کی اب تک کی کارکردگی کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ غلط بھی نہیں ہے۔ اب یہ چترال پولیس پر منحصر ہے کہ وہ اس مان کو کس انداز سے برقرار رکھتی ہے۔ اس بھروسے کو کیسے پختہ یقین میں بدل سکتی ہے۔ ہم چترال پولیس کی سابقہ روایات اور کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی کیلاش بہنوں کے لئے جلدی اور فوری انصاف کی توقع رکھتے ہیں۔ ساتھ میں یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ وڈیو میں نظر آنے والی کیلاش بہنوں کو تھانوں میں بلا کر تنگ نہیں کیا جائے گا بلکہ ان سے کچھ پوچھنا بھی ہوا تو ان کے گھروں میں جاکر چترال کی روایتی احترام اور تہذیب کو مدنظر رکھ کر ان سے معلومات لئے جائیں گے۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



