داد بیداد۔۔مشاعرہ بہاریہ۔۔ڈاکٹر عنایت للہ فیضیؔ

Print Friendly, PDF & Email

چترال میں خشک سالی کے باوجود بہار کے جوبن کا موسم ہے انجمن ترقی کھوار چترال نے بہاریہ مشاعرہ کے لئے ضلع کے پُر فضا مقام پرئیت کا انتخاب کیا 14اپریل 2018ء کو دروش، چترال، کوغذی، مروئے، ریشن اور ملکھو سے شعراء کے قافلے دریائے چترال پر دو پہاڑی گھاٹیوں کے درمیاں 400فٹ بلند پُل کو عبور کر کے پرئیت پہنچے توشادمان ہاؤس کا سبزہ زار مشاعرے کے لئے خصوصی طور پر سجایا گیا تھا بزرگ شخصیت، ماہر تعلیم ادیب اور ممتاز دانشور مکرم شاہ نے مشاعرے کی صدارت کی محمد عرفان عرفان، اقبال الدین سحر، صادق اللہ صادق، شہزادہ تنویرالملک، راقم الحروف اور شاہ عالم مہمانان اعزاز تھے مشاعرے میں 21 کہنہ مشق اور نوجوان شعراء نے کلام سنایا شعراء میں محمد جناح الدین پروانہ، حاجی اکبرحیات، اقبال الدین سحر، سعیدا لرحمن سعیدی، اسلم شیروانی، شاہ عالم عالم، شہزادہ مبشر الملک، اف ضل اللہ افضل، جہاندار شاہ جہاندار، محمد عرفان عرفان، صادق اللہ صادق، شہزاد احمدشہزاد، محمد الیاس الیاس، محمد شریف عروج، شمس النبی شادمانی، صبغت اللہ صبغت، احتشام الدین اِختی، سجاد خان ساجد، آفتاب عالم جوہی، حکیم اللہ حکیم اور سردار علی سردارشامل تھے حاضرین نے شعراء کو خوب داد دی شریف عروج، اسلم شیروانی، افضل اللہ افضل اور جہاندار شاہ جہاندار نے حاضرین کی فرمائش پر دو دو کلام پیش کئے مشاعرے کی نظامت کے فرائض محمد جناح الدین پروانہ اور سعید الرحمن سعیدی نے انجام دیے تلاوت کلام پاک کی سعادت مولانا صاحب الدین نے حاصل کی حلقہ پرئیت کے صدر مولانا عزیز الرحمن عزیز نے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے حلقہ پرئیت کی ادبی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی، مولانا نثار احمد نے اپنے خطاب میں وطن اور زبان سے محبت کے اسلامی فلسفے پر روشنی ڈالی اور تفسیر قرآن میں زبان کی لُغت کو درست استعمال کرنے کے لئے شعراء کے کلام سے استفادہ کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور امیر المومنین سید نا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول دہرایا کہ شعراء نہ ہوتے تو زبان کی لُغت محفوظ نہ ہوتی اُنہوں نے حسان بن ثابت اور دیگر شعراء کے کلام کا بھی حوالہ دیا انجمن ترقی کھوار کے مرکزی صدر شہزادہ تنویر الملک نے اپنے خطاب میں پرئیت کے حلقہ کی طرف سے بہاریہ مشاعرے کے اہتمام پر منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور مشاعرے میں شرکت کرنے والے معززین کے ساتھ ساتھ شعرائے کرام کا بھی شکریہ ادا کیا راقم الحروف نے مختصر گفتگو میں ماضی کے ایک مشاعرے کا حوالہ دیا 25سال پہلے کُل چترال مشاعرے میں پرئیت کے تین شعراء ناصر الدین طوفان، حاجی اکبر حیات اور محمد جناح الدین پروانہ نے خوب صورت کلام پیش کرکے بے پناہ داد حاصل کی تو صدر ِ محفل شہزادہ فخر الملک فخرنے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ”آج فصاحت و بلاٖغت کی گیند کو تین مشتاق کھلاڑیوں نے دریا پار کر کے پرئیت پہنچا دیا ہے“وہ گیند اب تک پرئیت کے شعراء کی تحویل میں ہے صدر محفل استاذ الاساتذہ مکرم شاہ صاحب نے انجمن ترقی کھوار کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے شہزادہ حسام الملک، وزیر علی شاہ، غلام عمر، اتالیق جعفر علی شاہ، مولانا عبد الحمید خان بلبل چترال، لفٹننٹ محمد حسین اور حاجی باباایوب کی خدمات کا ذکر کیا انہوں نے چترال کی تاریخ میں پرئیت کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1975ء میں چترال کا پہلا گاؤں تھا جہاں شادمان ہاؤس کے احاطے میں پن بجلی گھر قائم تھا میتار ژاؤ سلطان حکیم شاہ نے اپنے ذاتی بجلی گھر کے ذریعے روشنی کا انتظام کیا تھا جو اس وقت علم و ادب کی روشنی میں تبدیل ہوچکی ہے اس موقع پر مولانا نثار احمد نے مکرم شاہ کے بڑے بھائی محترم شاہ کی روح کو ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی اور نامور شاعر مولا نگاہ نگاہ کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی جناح الدین پروانہ کی نظم ”فیس بک“ مشاعرہ بہاریہ کا حاصل تھی ؎
تازہ رویان وس وس کویان چھینی موژی نس نس کویان
کیچہ جنجل فیس بُکہ شیر تہ دی غزل فیس بُکہ شیر