چترال (محکم الدین) چترال میں حالیہ سردیوں میں بارش اور برفباری نہ ہونے کے باعث پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ اور اکثر علاقوں میں پانی کی عدم دستیابی سے گندم، جو کی کھڑی فصلیں سوکھ گئی ہیں۔ اور لوگ اُنہیں بے وقت کٹائی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ پانی کی قلت کے باعث سبزیات کی کاشت بھی نہ ہو سکی ہیں، جبکہ دوسری طرف صاف پانی کے چشمے جو پینے کیلئے استعمال کئے جاتے تھے۔ بڑی تعداد میں خشک ہو گئے ہیں۔ اور چشمے خشک ہونے کی وجہ سے صدیوں سے اُن چشموں کے اطراف میں رہائش پذیر گھرانے نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ چترال شہرکے اندر سینگور، خورکشاندہ، اوچشٹ، بکامک، اطراف میں چمرکن، بروز، شیڑی کیسو، لاوی، اوسیک، سویر،جنجریت، عشریت، کاری،کجو اور بالائی چترال میں موڑکہو کے علاقے تشویشناک حد تک پانی کی قلت سے دوچار ہیں۔ اور زیادہ تر لوگوں کو پینے کے پانی کا بھی دستیاب نہیں۔ چترال میں عام طور پر مارچ کے مہینے میں ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آتا ہے ۔ لیکن اب ماہ اپریل کا اختتام ہونے کو ہے۔ لیکن ندی نالوں میں پانی کے آثار نہیں ہیں۔ آبی فراوانی کے حوالے سے معروف علاقے ایون ،کالاش ویلیز، جغور اور کوغذی کے ندی نالوں کی پانی میں بھی غیر معمولی کمی آئی ہے اور لوگوں میں بہت زیادہ تشویش پائی جاتی ہے۔ زراعت سے وابستہ بمبوریت کے معروف شخصیت حاجی سید احمد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا۔ کہ اُن کی 68سالہ زندگی میں پہلی مرتبہ ایون اور بمبوریت نالے میں پانی کی شدید کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ جب کہ اپریل کے مہینے میں نالہ ایون اپنے بہاؤ کے جوبن پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ موسم کی خشکی کا اگر یہ سلسلہ جاری رہا۔ تو تمام چشمے سوکھ جائیں گے۔ اور زندگی گزار نا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا۔ کہ کالاش ویلیز اور ایون کا پورا علاقہ چشموں کے پانی سے سیراب ہوتا ہے۔ جبکہ گرمیوں میں گلیشر اور برف کے پگھل جانے سے پانی میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن گذشتہ چند سالوں سے برفباری میں کمی اور چترال کے موسم میں غیر معمو لی تبدیلی کی بنا پر گلیشئرز بے تحاشہ پگھل کر سیلاب کی شکل میں تمام علاقے کو نقصان پہنچایا، اس تیز ترین پگھلاؤ سے گلیشئرز کے اسٹاک کو انتہائی طور پر نقصان پہنچا ہے اب ان پہاڑوں کی چوٹیوں پر گلیشئرز کا بہت کم ذخیرہ موجود ہے۔ پانی کی قلت کے شکار علاقوں بروز، اورغوچ سوئیر وغیرہ دیہات میں گندم کی فصل قبل از وقت سوکھ جانے کی وجہ سے کٹائی کی جارہی ہیں۔ اس سے غریب لوگوں کی زرعی آمدنی کو انتہائی طور پر دھچکا لگا ہے۔ جبکہ مال مویشیوں کیلئے چارے کی خرید اُن پر اضافی بوجھ ہے۔ متاثرہ علاقوں کے لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ کہ اُن کے ساتھ خوراک اور مال مویشیوں کیلئے چارے کی امداد کی جائے۔ بصورت دیگر اُنہیں سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



