چترال (نمائندہ چترال میل) امیر جماعت اسلامی ضلع چترال مولانا جمشید احمد نے چترال سے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کو کسی دوسرے ضلعے کو منتقل کرنے کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی اس کے خلاف بھرپور مزاحمتی تحریک چلائے گی جس میں ضلعے کی دوسری سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر انتخابات کی مکمل بائیکاٹ بھی شامل ہوگی۔ ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ چترال کی جعرافیائی حیثیت، پسماندگی اورعلاقے کی وسعت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہاں نہ صرف صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کو بحال رکھنے کی ضرورت ہے بلکہ اس سیٹ میں اضافہ بھی ناگزیر ہے جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے اس اعلان نے چترال کے طول وعرض میں عوام میں صف مایوسی بچھادی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ظالمانہ فیصلے سے چترال مزید پسماندگی کی طرف جائے گی اور چترال کے غیور عوام اسے ہرگز قبول نہیں کریں گے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


