گاؤں جاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھے سواریوں میں ملک کی سیاسی صورت حال پر بحث چھڑی۔ اس سلسلے میں دی جانے والی دلائل پر پارٹی وابستگی کا عنصر غالب تھا۔ اس دوران اس بحث میں بڑھ چڑھ کر بولنے والے دو افراد کا پارہ چڑھ گیا۔ اور ایک دوسرے پر منفی الفاظ کی بوچھاڑ کرنے لگے۔ بغیر چبائے ایک دوسرے کو نگلنے کے دعوے ہونے لگے۔ اپنے اسلاف کی عظمت کے گن گانے اور اپنی اپنی خاندانی وقار اور بڑھائی کے نشتر چلا ئے گئے۔ “پدرم سلطان بود “کے حوالے سے خود کو صاحب عزت اور دوسرے کو ذلیل و خوار کے القابات سے نوازے گئے۔ اور ساتھ ساتھ ذبان سے ایسے غلیظ الفاظ نکلنے لگے جنکی بنیاد پر دونوں میں سے کسی ایک میں بھی انسانی عظمت کا رنگ نظر نہیں آرہا تھا۔ بہت کچھ سننے کے بعد ایک سفید ریش شخص نے دنوں کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ “تو بھی راجا۔ تو بھی رانی۔بس کردو یہ حرام کہانی “۔
اس واقعے کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو علاقے میں عزت کی دعویداری کی بنیاد پر فخرو ناز کا رجحان عام طور پر پایا جاتا ہے۔ اور اپنے ذاتی کردار اور حالت زندگی سے قطع نظر اسلاف اور قومیت کو اس دعویداری کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ حالانکہ عزت ایک ایسی کیفیت کا نام ہے۔ جسکی خواہش ہر انسان میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ اسے انسانی اعزاز کے نام سے موسوم کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ عزت پیشانی پر لکھی ہوئی چیز نہیں ہوتی اور نہ یہ پیسے سے خریدی جاسکتی ہے۔ بلکہ یہ ایک ایسی انمول نعمت ہے۔جس کا حصول صرف اخلاقیات کے سکے سے ممکن ہو سکتا ہے۔ حضر علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ انسان دوسروں سے عزت کا تقاضا کرتا ہے۔ حالانکہ عزت اسکے اپنے پاس ہی ہوتی ہے۔ اگر وہ دوسروں کا ادب احترام اور تعظیم و تکریم کرے گا تو ان کی طرف سے بھی اس قسم کا معاملہ سامنے آئے گا۔ اسکے بر عکس اگرانسان انانیت کے گھوڑے پر سوار ہو کر آنکھیں زمین کی طرف لانے سے احترا ز کرے گا۔ اور ھتک آمیز اور حقارت بھر ہی نظروں سے دوسروں کی طرف دیکھے گا تو اسے عزت نام کے لئے ترسنا ہوگا۔کھوار کہاوت ہے کہ عزت والے کو گندگی کے ڈھیر میں تلاش کرو۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ انسان جو خود کو سب سے زیادہ حقیر، کم تر اور ادنیٰ تصور کر ے گا وہ قابل عزت و احترا م ہوگا۔ اور ہر کوئی ایسے انسان کو اپنے دل میں جگہ دینے کے لئے تیار ہوگا۔ اس کے بر عکس بدخو، بد اخلاق اور خودسر انسان کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
انسانوں کی طرف سے عزت کو خاندانی وقار، جاہ وحشمت، دولت و ثروت اور اقتدار کے ترازو میں تو لاجاتا ہے۔ ایسے میں خوف اور لالچ کی بنیاد پر کسی کا احترام کر کے عزت کا مقام دیا جاتا ہے۔اگر اس معیار کو حقیقی عزت سے تعبیر کیا جائے تو ایسے افراد بھی قابل تکریم ہوتے ہیں جو رب کائنات کی طرف سے معتوب ہوئے ہیں۔ یوں یہ معیار اس اعتبار سے بے وقعت ہوتی ہے۔ اور اسکے برعکس اللہ رب العزت نے انسانوں کی ابتدائے آفزینش کو ایک مرد اور عورت سے قرار دے کر حسب کی بنیاد پر یکسانیت کا تصور دینے کے بعد تقویٰ اور پرہیز گاری کو عزت کا معیار ٹھیراتے ہیں۔ اور عزت لفظ کو ان افراد کے لئے چنا ہے جو احکام خداوندی پر کما حقہ کا ر بند رہ کر زندگی کے شب و روز گزار تے ہوں چاہے وہ مالی لحاظ سے نان جوین کو ترستے ہوں اور سر چھپانے کے لئے چھت بھی میسر نہ ہو۔ اس معیار کے حامل ہونے پر ایک حبشی غلام کو ایسی عزت سے نوازا گیا کہ زمین پر چلتے ہوئے ان کے قدموں کی آہٹ عرش پر سنائی دینے لگی۔ قیامت تک ان کے اسم گرامی سے موسوم ہونے پر فخر محسوس کیا جائے گا۔ اور اس کے بر عکس فرغون، قارون، نمرود او ر ھامان نام سے ہر کوئی نفرت کرے گا۔
عزت پر اگر ایک دفعہ آنچ اور حرف آئے گا تو اس کا ازالہ کرنا مشکل ہوگا۔ کیونکہ یہ ایک ایسا درشہوار ہے۔ جو ٹوٹنے کی صورت میں اپنی حقیقی صفت کھو دیتی ہے۔
بحر حال عزت کی نعمت بھی خدا کی دین ہے۔ جیسے کہ ارشاد ربانی ہے کہ “اللہ رب العزت جس کو چاہے عزت سے نوازتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ذلیل کر تے ہیں۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



