٭ وجہ کائنات۔
آج محسن کائنات اور وجہ کائنات کی ولادت باسعادت کا عظیم دن ہے اور خوش نصیب لوگ اس دن کی بابرکت لمحات سے جھولیاں بھر رہے ہیں۔ہم اس کے ادنا غلاموں کے غلام کی حیثیت سے تمام اہل ایمان کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ جہان سیاسی شخصیات، مذہبی رہنماوں، ادکاروں، فنکاروں اور رشتہ داروں کے یوم ولادت اور برسی منانے کو نہ صرف جائز بلکہ لازمی بنایا جائے وہاں اس ہستی کے لیے اتنا بھی گنجائش نہ رکھا جائے کہ اس کے چاہنے والے ایک دوسرے کو مبارک باد بھی نہ کہہ سکیں تو اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے۔آپﷺ نے خود اپنی ہستی کے بارے میں فرمایا تھا”میں ا’س وقت نبی بنا تھا جب آدم کی روح تخلیق کے مراحل میں تھی۔“ لیکن اسلام کے نام پر بننے اس ملک کی پارلیمنٹ میں آج اس مبارک نام اور مقام کے ساتھ جو ظلم و ذیادتی روا رکھی گئی کیا اس کا ازالہ ممکن ہے؟
٭ جمہوری جرائم۔
میں ہمیشہ یہ کہتا اور لکھتا آیا ہوں کہ ہمارے ہاں جو ”ناجائز جمہوریت“ ہے اس کے ہوتے ہوے اس ملک میں جو اسلام کے نام پہ وجود میں آیا ہے کبھی بھی اسلام نظام کانافذ نہیں ہوسکتا اور حالیہ پاناما والے معاملے کے بعد ہر چور،ڈاکو، منگل باغ کے لیے سب کچھ حلال کرنے کا فارمولا پیش کر کے تمام بدقماش کے لیے اقتدار کے دروازے کھول دیئے گئے۔اس ننگی جمہوریت سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ… ناموس رسالت کے قانون کا خاتمہ کرے کل کو اذان اور نماز پر پابندی کا بل پاس کرائے اور یہ سارے کالے کرتوت ایک اسلامی سوچ رکھنے کے دعویٰ دار ”نوازشریف علیہ زحمہ“ کے دور میں کیوں ہورہے ہیں اپنے پہلے دور میں اس نے شریعت بل کا کھیل کھیلا اور اس حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا دوسری مرتبہ سود کے خاتمے کے خلاف سپرئم کورٹ میں اسٹے لیے رکھا اب کی بار ختم نبوت والے قانون کو چھڑ کر ملک میں انتشار پھلاکر فوج اور عدلیہ کے خلاف گھناونا اور ناقابل معافی جرم کیا جو دیدہ بینا رکھنے والے سب جانتے ہیں اور جو شعور سے بہت دور ہیں ان کی لیے ہدایت کی دعا ہی کی جاسکتی ہے۔
٭ اسلامی چھتری۔
لیکن مقام افسوس ہے ان مذہبی پارٹیوں پر جو پارلیمنٹ میں موجود ہوتے ہوئے ”سستے سموسے“ کھاتے ہوئے خواب خر ….گوش کے مزئے لیتے رہے کیا مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق اینڈ کمپنی فقط مراعات اور سہولیات لینے کے لیے خالہ جی کے گھر کی طرح وہاں چلے جاتے ہیں یا ان کی کوئی علاقائی،ملکی اور دینی ذمہ داریاں بھی ہیں؟ اس خطا کاری پر اگر چہ پورا پارلیمنٹ قصور وار ہے اور قوم کے سامنے جواب دہ بھی وہاں کمیٹی میں موجود تمام پارٹیوں کے نمائدے”نااہل لیگ کی نااہلیوں میں برابر کے شریک ہیں۔اور ان کا یہ جرم قابل معافی بھی نہیں…کاش ہمارے مولویوں اور جماعتیوں میں ” شیعوں اور بریلویوں جیسے جذبہ ولولہ اور عقیدت والے لوگ پیدا ہوجاتے ۔
٭ حریف پر وار؟
جس طرح ہم اپنے مذہبی رہنماوں سے ان کے کردار کے حوالے سے مایوس ہیں اس کی ایک جھلک چترال میں بھی نہ صرف نظر آتی ہے بلکہ اکثر دیکھنے کو ملتی ہے جو ”دین کے دعویٰ داروں“ کو لوگوں کے سامنے مزید رسوا کرتی ہے۔مولانا عبدالکبرچترالی صاحب جو سابق ایم این اے رہ چکے ہیں اور مستقبل کے امیدوار بھی ہیں کے غیر ذمہ دارنہ بیان کے خلاف کئی مرتبہ لوگوں کے احتجاجی خط، فون، اور میل کیے جن کو میں اس لیے اخبارات کی زینت بنانے سے دور رکھا کہ مولانا صاحب اور یار لوگ اسے اور معانی پہنائیں گے لیکن ایک پیچارے شخص جو مدتوں سے مالی مشکلات اور پرشانیوں کے دلدل میں پھسا ہوا ہے جس کا نام میں ظاہر کرنا مناسب نہیں سمجھتا اپنے گاؤں کے مسائل حل کرنے کے لیے بڑی جدجہد کے بعد ایم این اے کے لائے ہوئے فنڈ سے دو لاکھ کا ایک پراجیکٹ لیا اور بڑی محنت اور دوستوں اور رشتہ داروں سے قرض لے کر اس منصوبے کو وقت سے پہلے مکمل کیا اس امید پر کہ بروقت بل مل جائیں گے اور دس بیس ہزار کی بچت بھی ہوگی۔ لیکن مولانا صاحب کی نامعقول پرس کانفرنس کے طفیل فنڈ لیٹ ہوگئے اور اس بچارے کی زندگی مہینوں سے عذاب بنی ہوئی ہے۔ میں اس کے حال پہ آنسو بنا رہا تھا کہ مجھے چترال کے مختلف علاقوں میں جانے کا اتفاق ہوا اور بیسیوں اسے واقعات اور افراد سے ملاقات ہوئی جو مولانا کو صلواتیں سنارہے تھے اور موڑکھو میں خود مولانا کے ساتھ کچھ لوگوں کے تلخ و تند مکالمے بھی ہوئے تو حضرت نے فرمایا”شہزادہ افتخار میرا حریف ہے اور مجھے اسے نقصان تو پہنچانا ہی ہے ۔چاہیے بعد میں… معافی ہی نہ کیوں مانگنا پڑئے…. مولانا صاحب سے اس حقیر و فقیر کی گزاراش ہوگی علاقے کی بہبود میں… حریفوں… کا دست وبازوبنانا مذہبی لوگوں کے ساتھ بھلے لگتا ہے اور چترال کے مسائل مشکلات آپ مجھ سے ذیادہ جانتے ہیں لہذا خیال کیجیے گا آپ کی ایک غلطی نے ہزاروں لوگوں کے مسائل میں اضافہ کئے اور ان کے پراجیکٹ سرد موسم کی نظر ہوکے التوا کا شکار ہوئے اور اس …. کار خیر… پر جماعت اسلامی اور اسلام کو کتنا… فائدہ ہوا
اس کا جواب آپ ہی دے سکتے ہیں؟ کل کو اگر آپ دوبارہ منتخب ہوئے اور کوئی اور لیڈر آپ کی ٹانگیں کھنچنے لگے تو عہد گزشتہ کی طرح علاقے کوخالی ڈسک پیٹنے کی آواز ہی سنائی دے گی اور کام نہیں ہوسکیں گے۔اگر ان پراجیکٹس میں کہیں کاغذی منصوبے ہیں تو ان کی نشاندہی بھی آپ پر فرض ہے۔میں آپ کی دور زرین میں کئی بار … اویر… شغور چترال… شیشی کوہ واٹر چینلز اور جغور پاور ہاوس کی ناقص منصوبہ بندی اور
مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد پر جی ائی ٹی کا آپ سے مطالبہ کرتا رہا مگر آپ نے کڑوروں روپے کے منصوبوں کی طرح ہماری گزرشات اور آرزوں کو … دریا برد کردیاجس کا آپ جیسے صاحب کردار نمائیدے سے توقع نہ تھی۔
٭٭٭٭٭
تازہ ترین
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومٹریفک پولیس ڈرائیونگ سکول لوئر چترال کا آٹھواں بیچ کامیابی کے ساتھ مکمل


