تجس۔۔قرآن و حدیث سرچشمہ رشد وہدایت۔۔تحریر: محمد صابر

Print Friendly, PDF & Email

ایک انسان دنیا میں یو نہی نہیں آیا ہے بلکہ کچھ کرنے اور اپنے رب سے کیے ہوئے عہدوپیماں نبھانے آیا ہے۔غرض ایک انسان کی دنیا میں تشریف آوری کے چند اغراض و مقاصد ہیں۔جن میں سر فہرست وحدانیت و ربوبیت کی پہچان اور کفر وشرک سے دوری شامل ہے۔ چونکہ یہ با ت حدیث میں بھی آئی ہے کہ کسی کے ہاں جب ایک بچہ پیدا ہوتاہے ۔وہ بچہ عین دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے یعنی کہ مسلمان اس کے والدین اسے یا تو نصرانی بناتے ہیں یا یہودی مگر والدین اس کو اپنی دین و مذہب کی جانب راغب کردیتے ہیں اس عمل میں اس بچے کا کو ئی قصو ر نہیں ہوتا ہے۔ اس کی ایک چھو ٹی سی مثال کواگر محفوظ خاطر رکھا جائے توبات مزید واضح ہوجائیگی ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے والے بچے کواول دن سے ہی الوہیت و ربوبیت اور کفروشرک میں فرق کی نشاندہی کرائی جاتی ہے وہ بچہ اس گھرانے کے رسم ورواج طورو اطوار،سوچ و فکر کی عکاس ہوتی ہے۔مگر لمحہ فکریہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں کئی فرقے ومسالک موجود ہیں جہاں بہت ساری چیزوں میں باہمی اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ہمارے ملک میں مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افرادایک دوسرے کے خلاف اختلافات کی وجہ سے محاز آرائی پر اتر آتے ہیں۔اب اگر ایک بچہ ایک مخصوص مکتہ فکر کے ہاں پیدا ہوتاہے تو وہ اپنے والدین عزیز و اقارب کے قول و فعل کو کافی قریب شاہدہ کرتاہے جوں جوں وہ بڑا ہوتا جاتا ہے۔اس بچے کے قول و عمل میں بھی والدین کے جیسی پختگی اور تسلسل پیداہوتا ہے۔ اور ٹھیک اسی طرح دوسرے مکتبہ فکر کے گھر می پیدا ہونے والے کے سوچ و فکر اور رائے میں زمین و آسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ ایک مکتبہ فکر کے نزدیک نبی ﷺنور ہے مگر اسی طرح دوسرے مکتبہ فکر کی نظر میں نبی ﷺنور نہیں بلکہ بشر ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سے تفریق امتیاز مسالک اور فرقے وجود میں آتے ہیں یعنی کہ دو مخلف الرائے اور مختلف نظرایات کا باہمی تصادم اور انتشار کی پیداوار انہی دو قبیلوں کی جانب سے شروع ہو جاتی ہے۔ اس مرحلے پر پہنچ کرزبانی کلامی اور الفاظ کی جنگ ایک دوسرے کو صحیح اور غلط ثابت کرنے کے لیے کفر کے فتوے جاری ہوتے ہیں۔یہاں یہ بات بھی یاد رکھیں کہ اند ھی تقلید اور ایک دوسرے کو صحیح اور غلط ثابت کر نے کیلئے یہ فریق حقائق کو پاما ل کر تے ہو ئے آگے بڑ ھتے جائیں گے انہیں ہر گز یہ بر انہیں لگے گا کہ وہ حقا ئق سے منہ موڑرہے ہیں اور گمراہی کے راستے چل کر ایک دوسر ے پر وار کر رہے ہیں آخر میں ان دو نوں فریقو ں کا انجام نہایت برا اور بھیا نک ہوتا ہے۔کیو نکہ باوجود اصل حقا ئق اور دلائل کے ہو تے ہو ے انہو ں تاریک راہوں کا سہارا لیا ہوتا ہے تاکہ دنیا وی زند گی میں سر خرو ہو جائے حالا نکہ آخرت میں یہ لوگ ذلیل و رسوا ہو نگے۔ اس ایک مثال سے مو ضوع کی اہمیت اور مقصدیت واضح ہو گئی۔ آج ہم جبکہ کئی گروہوں فرقوں اور مسلکو ں میں بٹ چکے ہیں کوئی خو دکو علامہ تو کوئی مولانا تو کو ئی خود کو نہ جانے کیا کچھ کہتا ہے اور ہم جیسے عام عوام کو مذہب کے نا م پراستعمال کیاجاتاہے۔ حالانکہ ہو نا تو یہ چاہیے تھا کہ سبھی مسلمان ایک فرقے مذہب اور مسلک پر کا ر بند ہتے مگر افسوس کہ ہم نے اتحاد و اتفاق کی بنیاد ی چیزوں سے منہ موڑا بعنی کہ قرآن اور صحیح احادیث۔۔۔جس کی وجہ سے مسلمانو ں میں نت نئے فرقے اور مذاہب جنم لے رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ بحیثیت مسلمان تحقیق کریں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط آج کل کے دور میں ہر کو ئی ْقر آ ن و حد یث کو اپنے اغراض و مقاصد کے لئے تشریح کر رہا ہے ہمارے پاس قرآن کی صحیح اور مستند تشریح و تفسیر و حدیث کی صورت میں ہو تے ہو ئے بھی ہم ناقص انسانی عقل کی تشریح و تفسیر کو احادیث پر تر جیح دے رہے ہیں جو کہ ظلم اور گمراہی کے سوا کچھ بھی نہیں۔
ٓآ ج کے ہمارے معاشرے میں چند نا نہاد افراد خود کو عقل کل سمجھ کر مسلمانوں کے اجماع اور متفقہ طے شدہ امور پر لب کشائی کر رہے ہیں اور ان افرا د میں اتنی ہمت آچکی ہے کہ حدیث مبارک کی صحت پر بھی کلام کر رہے ہیں اور احادیث مبارکہ میں نقص نکال ر ہے ہیں۔ ایسے حضرات کو منکر حدیث کہا جاتا ہے جو کہ قرآن کے بعد حد یث سے استفا دہ کر نے کے بجا ئے علا مہ،مو لا نا اورکیاکچھ نام بدل کر مسلمانوں کے اندر تفرقہ اور گمراہی پھیلارہے ہیں۔یہاں یہ بات بھی واضح کرتا چلاوں کہ میں علماء حق کی عزت کرتا تھا اور کرتا رہوں گامیں ان نام نہاد علماء کی بات کررہا ہوں جنہوں نے قرآن کو اپنے لیے ذریعہ معاش بنایا ہوا ہے اور لوگوں کے دلوں میں احادیث مبارکہ کے خلاف نفرت اور شکوک و شبہات پیدا کررہے ہیں۔میں نے کئی بار اس حوالے سے آواز بلند کی ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی کر تا رہوں گا۔ بہحثیت مسلمان ہم پر لازم ہے کہ قرآن و حدیث کا مطالعہ کر یں اور براہ راست ان سے رہنمائی حاصل کر یں۔ ہمارے لئے قرآن پاک ہدایت کا سرچشمہ اور میرے نبیﷺ ٓقابل اطاعت ہے اور تا قیامت رہیں گے۔