آج کل کے دور میں بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ لوگوں کے مسائل میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنے کم وسائل میں بھی سخت محنت کر کے ان مسائل کا حل نکاتے ہیں یہ لوگ کسی کے مدد کے طلب گار نہیں ہوتے انہیں اپنے آپ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اور یہ تب تک محنت کرتے ہیں جب تک انکو کامیابی حاصل نہیں ہوتی مثلاً لاسپوریارخون،تورکہو،لوٹ اویر،ارکاری،کریم آباد وغیرہ کے لوگ جو کئی سالوں سے تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے آج شام ڈھلتے ہی ان کے گھر روشنیوں میں نہلا جاتے ہیں انھوں نے اپنے کم وسائل میں اتنی بجلی پید ا کرلی ہے کہ ان کا کام ہو جانے کے باو جود بھی کئی واٹ بجلی یوں ہی ضائع ہو جاتی ہے یہ تو تھا دیہاتی لوگوں کا حال اب ذرا شہری لوگوں کے حالات پر بھی غور کیجئے شہری علاقوں مثلاً دروش،چترال،بونی وغیرہ کے لوگوں کا ٰخیال ہے کہ ان کے مسائل صرف حکومت ہی حل کر سکتی ہے اور یہ لوگ حکومت کو اپنی عوامی قوت دکھانے کیلئے صرف جلوس اور نعرے بازی کرتے ہیں ان جلسوں کے پیچھے بھی کئی سیاسی جماعتوں کا ہاتھ ہوتا ہے وہ اپنی سیاسی دکان چمکانے کیلئے لوگوں کو ان جلسوں میں دھکیل دیتے ہیں اب آپ میرے چند سوالوں پر غور کیجئے کیا یہ محنت کرنے والے درست ہیں یا پھر جلوس اور نعرے بازی کرنے والے؟ان کے ان جلوسوں سے فائدہ کس کس کو ہوتا ہے؟اور نقصان کون برداشت کرتا ہے کیا صرف سڑکیں بند کرنے سے آپ کو بجلی مل سکتی ہے؟با لکل نہیں آپ کے ان احمقانہ حرکتوں سے تکلیف صرف آپ کو ہی ہوتی ہے کسی بیمار ماں کو ہوتی ہے سکول جانے والے چھوٹے بچوں کو ہوتی ہے کسی دور کے مسافر کو ہوتی ہے اگر دیہات کے لوگ اپنے گھروں کو روشن کرسکتے ہیں تو آپ کیوں نہیں؟اس جدید دور میں جہاں آپ کو پانی بھی میسر ہے اور ٹیکنیکل ماہرین بھی تو کیا آپ بجلی پیدا نہیں کر سکتے تو کیا سڑکوں پر نعرے بازی کرنے والی عوامی قوت کو اپنی طاقت بنا کر اپنے لئے بجلی کا انتظام نہیں کر سکتے؟ خدارا!خود پر رحم کیجئے آگر آپ سچ میں اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں تو ہمت کیجئے اپنے آپ پر بھروسہ کیجئے اور پھر سوچئے ”ہمت مردان مدد خدا“
؎
تازہ ترین
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومٹریفک پولیس ڈرائیونگ سکول لوئر چترال کا آٹھواں بیچ کامیابی کے ساتھ مکمل


