زنانہ اور مردانہ تعلیم کا ضلعی دفتر یکم اکتوبر 2017 ء سے ایک ہوگا ڈسٹرکٹ افیسر مر دانہ دونوں کا سربراہ ہوگا اس طرح محکمہ تعلیم کے ضلعی دفتر میں بد انتظامی کا ایک باب ختم ہو جائے گا اساتذہ کی طرح استانیوں کیلئے بھی کام کا منا سب ماحول میسر ہوگا پبلک کو بھی آسانی ہوگی وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی صدارت میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی پانچویں اسٹاک ٹیک میٹنگ ہوئی۔جسمیں کئی اہم فیصلے کئے گئے ان فیصلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے تحقیقات پر مبنی فیصلوں کا آغاز کر دیا ہے فیصلے سے پہلے انکوائری رپورٹوں کا جائزہ لیا گیا ہے گذشتہ 4دہائیوں کا ریکارڈ ملاحظہ کیا گیا ہے اور اس بات کی جانچ پڑتال کی گئی ہے کہ 1980 کے عشرے میں جب ڈسٹرکٹ افیسر مر دانہ تما م سکولوں کا سربراہ تھا تو کتنا اچھا کام ہوتا تھا زنامہ اور مردانہ کو الگ کیا گیا تو کتنے گھمبیر مسائل پیدا ہوئے عدالتوں میں مقدمہ بازیوں،سکولوں میں آئے روز کے جھگڑوں،امتحانات میں گھپلوں،سرکاری کاموں میں سُستی اور دفتری نظام میں بگاڑ کی وجہ سے ضلعی سطح پر زنانہ تعلیم کا شعبہ بیحد متاثر ہوا تحقیق اور تفتیش کے بعد خیبر پختونخوا کی حکومت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دونوں کو یکجا کر کے ڈسٹرکٹ افیسر مر دانہ کی ذمہ داری میں دینے سے تمام مسائل حل ہوجائینگے اگر منصوبے کے مطابق یکم اکتوبر 2017 سے ڈی او فیمیل کا دفتر بند کر دیا گیا تو عوام کو بھی سکون ملے گا استانیوں کو ڈیوٹی دینے کا اچھا ماحول میسر آئے گا اور طالبات کو پڑھائی کا بہتر نظام ہاتھ آئے گا اگر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور وزیر تعلیم عاطف خان نے کسی کے دباؤ میں آئے بغیر اس فیصلے پر عمل درآمد کیا تو اس کے دور رس اور مثبت نتائج برآمد ہونگے اگر چہ صوبائی حکومت نے محکمانہ رپورٹوں اور مانیٹرنگ یونٹ کی سفارشات کو سامنے رکھ کر ضلعی سطح پر فیمیل ڈی او کی آسامی کو ختم کر نے کا فیصلہ کیا ہے تا ہم اس فیصلے کے پس پردہ محرکات میں بعض واقعات کا بھی دخل ہے ان واقعات سے صوبائی حکومت نے فائدہ اُٹھا یا ہے مثلاََ استانی کی ترقی ہوئی دوسالوں تک اُس نے ڈیوٹی پر حاضری نہیں دی مقدمہ بازی ہوئی سروس ٹر یبو نل نے استانی کے خلاف فیصلہ دے کر اُس کی ترقی روکنے اور تنخوا ہ کی ریکوری کرنے اور دوسال پہلے کی پوزیشن پر بھیجنے کا حکم دیا اس پر بھی دو ماہ تک عمل درآمد نہیں ہوا مانیٹرنگ ٹیمیں اس صورت حا ل کو رپورٹ کر کے تنگ آگیئں مردانہ دفتر میں ایسا کبھی نہیں ہوا مثلاََ حکومت نے اساتذہ اور استانیوں کو ایک ساتھ ترقی دی اساتذہ کو ترقی 2012میں ملی،استانیوں کو بعض اضلا ع میں 2013اور بعض اضلاع میں 2014تک ترقی نہ مل سکی 2014کے بعد مقدمہ بازی شروع ہوئی اور محکمے کی بدنامی کا باعث بن گئی مثلاََ صوبائی حکومت سکولوں کی کار کردگی کے بارے میں مخصوص عنوانات کے تحت مخصوص نوعیت کی معلومات جمع کر رہی ہے ایک ہی خط ضلعی سطح کے مردانہ اور زنانہ دفاتر کو بھیجا جاتاہے مردانہ دفاتر سے مقررہ میعاد کے اندر جواب آجا تاہے زنانہ دفاتر کو مقررہ میعار گزرنے کے بعد تین بار یا چار بار یاد دہانی کے خطوط بھیجے جاتے ہیں فون کئے جاتے ہیں بڑی مشکل سے خط کا جواب آتاہے تو غلط جواب ہوتا ہے مثلاََ مانیٹرنگ ٹیموں نے یہ بات نوٹ کی تھی کہ زنانہ ڈی او کے دفتر میں اختیارات غیر متعلقہ لوگوں کے پاس ہو تے ہیں ذمہ دار افیسر کو یا انگریزی نہیں آتی یا دفتری امور کا تجربہ نہیں ہوتا ہو ایک طرف باپ یا شوہر کے ہا تھوں میں کٹھ پُتلی ہو تی ہے دوسری طرف ما تحت عملے کے سامنے بے بسی کی تصویر بن کر بیٹھ جاتی ہے ماتحت عملہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ذمہ دار افیسر کو پتہ بھی نہیں ہو تا اس وجہ سے بد انتظامی جنم لیتی ہے دفتری نظم ونسق بھی تباہ ہو جاتاہے سکولوں کے تدریسی ماحول کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے صوبائی وزیر اعلی کو یہ بھی رپورٹ ملی تھی کہ دو خواتین کے درمیان باہمی ضد،حسد، انتقام وغیرہ سے دفترمیں گروپ بندیاں جنم لیتی ہے ان منفی گروپ بندیوں کی وجہ سے دفتری نظام کو بربادی سے دو چار ہونا پڑتا ہے اس نوعیت کی بے شمار رپورٹوں کا جائزہ لینے کے بعد صوبائی حکومت نے ضلع کی سطح پر مردانہ اور زنانہ سکولوں کے دفاتر کو یکجا کر کے ڈسٹرک افیسر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مردانہ کی نگرانی میں دینے کا فیصلہ کیا ہے تعلیمی،سماجی اور عوامی حلقوں میں اس انقلابی فیصلے کو سراہا گیا ہے اب یہ صوبائی حکومت کا امتحان ہے کہ یکم اکتوبر 2017تک چار ہفتوں کی مدت میں اس فیصلے کو عملی جامہ پہنا سکتی ہے یا نہیں؟بیور وکریسی صوبائی وزیر اعلی کے حکم کی تعمیل کرتی ہے یا نہیں؟ایسے انقلابی اقدامات کے لئے پختہ عزم اور جلد عملدر آمد کی ضرورت ہوتی ہے سیاسی اور سماجی حلقوں کو یقین ہے کہ وزیراعلی پر ویز خٹک اپنے فیصلے کو عملی جامہ پہنا سکینگے۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



