جب تک سورج چاند موجود ہیں، کوئی مائی کا لعل خاتم الانبیاء کو چیلنج نہیں کرسکے گااور پاکستانی پارلیمنٹ میں پاس شدہ اس قانون میں زیر کو زبر میں بدلنے کی بھی کسی قادیانی یا اس کے ایجنٹ کا مجال نہیں۔مولانا اللہ وسایا معروف عالم دین

Print Friendly, PDF & Email

چترال (بیورورپورٹ) پیر کے روز چترال پریس کلب میں منعقد ہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ‘سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس ‘سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین اور مجلس کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے کہا ہے کہ ختم نبوت ہر مسلمان کی عقیدے کا لازمی جزو ہے اور دنیا میں مسلمان اپنی جان سمیت ہر چیز سے دستبردار ہوسکتا ہے لیکن ختم نبوت پر سمجھوتہ کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا اور یہی وجہ ہے کہ انگریزوں نے برصغیر پاک وہند میں اپنی قوت و جبروت کے بل بوتے پر اس عقیدے پر حملہ کرنے کی بھر پور کوششوں میں بری طرح ناکام رہا اور امریکہ سمیت تمام کفار قوتین جان لیں کہ رہتی دنیا تک یہ عقیدہ مسلمانوں کا قیمتی متاع ہے جس کا وہ ہر صورت میں دفاع کرکے رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ مسلمہ کذاب سے لے کر غلام احمد قادیانی تک جس نے بھی نبوت کی دعویداری کی مذموم کوشش کی، اسے دنیا میں رسوائی اور ذلالت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا اور تاریخ عالم میں ان کے اور ان کے حامیوں کو انتہائی منفی کردار کے طو ر پر محفوظ ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ قادیانیوں کے خلاف مسلمانوں کے تمام مکتبہ ہائے فکر کے علمائے کرام مولانا رشید گنگوہی سے لے کر مولانا نذیر دہلوی، احمد رضا خان بریلوی اور اہل تشیع کے علی الخیر ی تک سب نے برابر جدوجہد کرکے غلام احمد قادیانی کے مذموم چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا اور یہ اسی جدوجہد کا تسلسل ہے کہ 1974ء میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں باقاعدہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اور اقلیت قرار دے دئیے گئے جوکہ تحریک ختم نبوت کی غیر معمولی کامیابی تھی۔ انہوں نے کہاکہ ہر مسلمان اپنی پیدائش سے لے کر موت تک تحریک ختم نبوت کا سپاہی ہوتا ہے اور جب تک سورج چاند موجود ہیں، کوئی مائی کا لعل خاتم الانبیاء کو چیلنج نہیں کرسکے گااور پاکستانی پارلیمنٹ میں پاس شدہ اس قانون میں زیر کو زبر میں بدلنے کی بھی کسی قادیانی یا اس کے ایجنٹ کا مجال نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خاتم الانبیاء کے گرویدہ مسلمانوں کے دیس پاکستان کے ہر ضلعے میں معروف واقع معروف چوراہا یا چوک کو ختم نبوت چوک کا نام دیا جائے اور چترال کے سات تحصیلوں میں بھی ایک ایک چوک کو یہ مبارک نام دے کر چترال کے غیور مسلمانوں کی جذبات کی ترجمانی کی جائے۔ اس سے قبل مرکزی مبلغ قاضی احسان احمد اور شیخ الحدیث مولانا حسین احمد نے بھی ختم نبوت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہاکہ ناموس رسالت کے لئے ہر شعبہ زندگی کے افرا دکو اس محنت میں شامل ہوکر اپنے آپ کو شفاعت رسول اور ان کے دست مبارک سے حوض کوثر کا پانی پینے کا حقدار بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ صحافی سے لے کر استاذ اور پارلیمنٹرین تک سب پر فرض ہے کہ وہ ختم نبوت اور خاتم الانبیاء کے ناموس کو اپنی زندگی کا مقصد بنالے۔ چترال پریس کلب سے قبل گزشتہ ایک ہفتے سے ضلعے کے مختلف تحصیلوں میں اس نوعیت کے خاتم الانبیاء کانفرنسوں کا انعقاد کیا جن میں دروش (28جولائی)، شاہی مسجد چترال اور جامع مسجد موژگول موڑکھو (30جولائی)، ریحانکوٹ اور گرم چشمہ (یکم اگست) شامل ہیں۔ چترال پریس کلب میں منعقدہ پروگرام میں جے یو آئی کے سابق امیر قاری عبدالرحمن قریشی، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر مولانا اخونزادہ رحمت اللہ اور تاجر اور وکلاء برادری سے کثیر افراد نے شرکت کی۔