ایک طویل عرصہ تاریکی میں بیتنے کے بعد ایک نجی ادارے کے زیر انتظام برموغ گولن میں ہائیڈل پراجیکٹ کی تعمیر کے بعد آزمائشی طور پر بجلی لائن پر چھوڑنے سے گھروں کے اندر اچانک روشنی آ نے پر ایک عجیب کیفیت دیکھنے کو ملی بچوں کے گھروں سے باہر نکل کر “بجلی آگئی ” کے نعروں سے مسرت کا اظہار کیا گیا۔ اور بڑے بوڑھے خوشی سے پھولانہ سمائے پانی ٹھنڈا کرنے، کپڑے استری کرنے اور دیگر امور کی انجام دہی کی طرف لپکے۔ اور یوں ہر چند لمحوں کے بعد بجلی کی تر سیل منقطع ہونے اور آنکھ مچولی کا سلسلہ شروع ہونے پر صارفین کی زبانوں سے نکلنے والے “اوہو”کا سلسلہ شروع ہوا۔ در حقیقت تاریک دنیا کے باسیوں کی طرف سے اچانک بجلی کی روشنی دیکھ کر مسرت کا اظہار کرنے کی کیفیت کو اگر سائنس کے ارتقائی دور پر ماتم کے مترادف قراردیا جائے تو بے جانہ ہوگا۔ ایکسویں صدی میں جب کہ انسان چاند پر کمند ڈالنے میں سرگرم عمل ہے اور بجلی کی لمحے کیلئے بریکڈاؤن کو قومی المیہ تصورت کیا جاتا ہے۔ اور ہم ابی وسائل سے مالا مال علاقے میں رہتے ہوئے بھی اپنی زندگی میں اجالے دیکھنے کی آرزؤں سے نہ نکلے۔ اُ دھر روشنی کی چھوٹی سی کرن پر حق دعویداری کے سلسلے میں گزشتہ کئی مہینوں سے اپس میں بر سر پئیکاررہنا ہماری ذہنی کوتاہی پر دلالت کرنے کے لئے کافی ہے۔ ایک دوسرے پر گرجنے اور برسنے کے اس معر کے میں شاید دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ مشاورتی اجلاس ہوئے ہونگے۔ اور ایک طرف ہماری بے حسی کی کیفیت یہ ہے کہ ریشن ہائیڈل پاؤر سٹیشن سیلاب برد ہوئے دو سال کا طویل عرصہ گزر گئے جہاں صارفین خاموشی کی نیند کی آغوش میں چلے گئے وھاں نہ حکومت اور متعلقہ ادارے کے چہروں پر شرم و حیا کے آثار دیکھنے کو ملے اور ہمارے نمائندے تو ویسے بھی اپنی اور اپنی اولاد کی دنیا سنوارنے میں مگن ہیں۔ہمارے زندہ باد کے نعروں کی گونج میں مسند نمائندگی کا جامہ عیش زیب تن کرنے کے بعد ان کا ہم سے ناتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ پھر بھی نمائندگی کے چناؤ کے دوران ہمارے جذبات میں کمی نظر نہیں آتی مگر روشن دنیا دیکھنے کی حسرت پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ حقیقتاً ہم میں جہاں اچھے اور برے کی تمیز کا مادہ موجود نہیں وہاں حق کیلئے طلب کی جرات سے بھی عاری ہیں۔ اور اپنی دنیا سنوارنے کے احساس کا فقدان ہے۔ اور صرف پارٹی نام سے وابستگی کو جنون کی حد تک اپنائے رکھتے ہیں اور پوری قوم کی مستقبل پر پڑنے والے اس دیوانگی کے منفی اثرات کا ادراک نہیں رکھتے۔ حالانکہ قرآن پاک کے ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جسکو خیال خود اپنی حالت آپ بدلنے کا۔
٭٭٭
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



