چترال (محکم الدین) ملک کے مختلف شہروں میں حکومت ناقص دودھ کی مارکیٹ میں فروخت کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ لیکن بد قسمتی سے چترال میں اس قسم کے کیمکل دودھ بیچنے والوں کے خلاف ابھی تک ایکشن لیا گیا ہے۔ اور نہ اس پر کاروائی کی ضرورت محسوس کی جاری ہے، جس کی وجہ سے بازار میں پنجاب سے دیر اور دیر سے چترال لاکر تازہ دودھ کے نام پر کیمکل سے تیار شدہ سفید مائع فروخت کیا جاتا ہے۔ اور چترال کے لوگ بغیر کسی تحقیق کے بازار سے کُھلے کیمکل زدہ دودھ، دہی اور کھیر خرید لیتے ہیں۔ اور کوئی بھی اس بارے میں معلوم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ کہ پنجاب اور دیر سے چترال لایا جانے والا دودھ قابل استعمال ہے بھی کہ نہیں۔ گولدور روڈ پر واقع دودھ کی دکان سے حاصل کئے گئے معلومات کے مطابق وہ پنجاب سے خاص گاڑیوں کے ذریعے دودھ دیر پہنچاتے ہیں۔ اور دیر سے پھر دودھ چترال منتقل کیا جاتا ہے۔ جبکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرف سے روزانہ ہزاروں لیٹر ناقص،کیمکل سے تیار شدہ دودھ ضائع کرنے کی مہم کے بعد اس میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ کہ یہ دودھ چھپتے چھپاتے چترال پہنچایا جاتا ہے۔ اور فروخت کیا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے چترال میں کیمکل زدہ دودھ فروخت کرنے والوں سے پو چھا جاتا ہے اور نہ ان کے خلاف کوئی کاروائی ہوتی ہے۔ جس سے لوگ روزانہ دودھ کی شکل میں زہر استعمال کرتے ہیں۔ اور اپنی موت کا ساما ن خود کرتے ہیں۔ انتظامیہ اور محکمہ فوڈ کے پاس اس قسم کے ناقص اشیاء کے جانچنے کا کوئی آلہ ہے، اور نہ ان پر ہاتھ ڈال کر عوام کی جان بچانے کی ذمہ داری انجام دی جاتی ہے۔ اس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ متعلقہ ادارے اس قسم کے کاروبار کرنے والوں پر ہاتھ ڈالنے سے چشم پوشی کر رہے ہیں ۔ دودھ کے ناقص ہونے کیلئے یہی کافی ہے۔ کہ اُسے پنجاب سے چترال پہنچایا جاتا ہے۔ جبکہ خود پنجاب میں لوگ خالص دودھ کو ترس رہے ہیں۔ دودھ کی دکان پر دہی بنانے اور کھیر بنانے کی جگہ بھی دودھ کو ناقص بنانے کیلئے کافی ہے۔ جہاں صفائی سے محروم کمرے میں گندے کپڑوں سے دہی کے برتنوں کو ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ اور کھیر تیار کرکے اُن کو کھلے عام بغیر ڈھکنے کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جبکہ اس ایریے میں پولٹری کی کئی دکانیں موجود ہیں۔ جہان سے اُڑتی گردو غبار سے ان کو بچانے کی کوشش بھی ضروری خیال نہیں کیا جا تا۔ عوام پہلے ہی ناقص گھی، مصالحہ جات، چائے وغیرہ استعمال کرکے امراض کے نرغے میں آ چکی ہے۔ اور لوگ امراض قلب، بلڈ پریشر، شوگر وغیرہ بیماریوں کی وجہ سے چلتے میں موت کی اغوش میں چلے جاتے ہیں۔ اب ناقص دودھ کی چترال میں فراہمی اس میں مزید اضافے کا سبب بنے گا۔
تازہ ترین
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ
- ہومپاکستان کیمسٹ اینڈڈرگسٹ ایسوسی ایشن چترال کے صدر رحمت الٰہی نے ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف 21جولائی کے شٹرڈاون ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان
- مضامیندھڑکنوں کی زبان۔۔محمد جاوید حیات۔۔”اس قوم کو تعلیم کی نہیں، تربیت کی ضرورت ہے



